امت نیوز ڈیسک //
سپریم کورٹ نے پیر کے روز اناؤ ریپ کیس میں سابق اتر پردیش ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو دی گئی ضمانت سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی۔ دہلی ہائی کورٹ نے سزا معطل کرتے ہوئے سینگر کو اپیل زیرِ سماعت رہنے تک ضمانت دی تھی۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بنچ نے اس معاملے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں اہم قانونی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ عام طور پر کسی ملزم کو ضمانت ملنے کے بعد بغیر سنے اس حکم پر روک نہیں لگائی جاتی، تاہم اس معاملے میں چونکہ کلدیپ سینگر ایک دوسرے کیس میں اب بھی جیل میں بند ہے، اس لیے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگائی جا رہی ہے اور وہ رہا نہیں ہوگا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ لڑکی کو الگ سے اسپیشل لیو پٹیشن (SLP) دائر کرنے کا قانونی حق حاصل ہے اور اگر ضرورت ہو تو سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کے ذریعے اسے مفت قانونی امداد فراہم کی جائے گی۔
سی بی آئی کی جانب سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ دہلی ہائی کورٹ نے غلط طور پر یہ قرار دیا کہ پوکسو ایکٹ کے تحت سنگین جرم کی دفعات لاگو نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوکسو ایکٹ بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں طاقت اور اثر و رسوخ کے غلط استعمال کو سنگین جرم تصور کرتا ہے اور واقعے کے وقت ایک بااثر ایم ایل اے ہونے کے ناطے کلدیپ سینگر نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
کلدیپ سینگر کے وکلاء نے سی بی آئی کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پوکسو ایکٹ کے تحت ایم ایل اے کو “پبلک سرونٹ” نہیں مانا جا سکتا اور کسی تعزیری قانون میں دوسرے قانون کی تعریف اس وقت تک شامل نہیں کی جا سکتی جب تک قانون میں واضح طور پر اس کا ذکر نہ ہو۔
اس پر چیف جسٹس نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس تشریح کو قبول کر لیا جائے تو ایک کانسٹیبل یا پٹواری تو پبلک سرونٹ ہوگا لیکن ایم پی یا ایم ایل اے اس تعریف سے باہر ہو جائے گا، جو ایک غیر منطقی صورتحال پیدا کرے گا۔ بنچ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دہلی ہائی کورٹ نے آئی پی سی کی دفعہ 376(2)(i) کے اطلاق پر غور نہیں کیا، جو نابالغ کے ساتھ زیادتی سے متعلق ہے اور جرم کے وقت نافذ تھی۔
عدالت نے چار ہفتوں کے اندر جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی اور دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ معاملہ تفصیلی سماعت کا متقاضی ہے۔
واضح رہے کہ کلدیپ سنگھ سینگر کو 2019 میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اناؤ ضلع میں ایک نابالغ لڑکی سے زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ وہ متاثرہ لڑکی کے والد کی موت سے متعلق ایک الگ معاملے میں بھی 10 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ یہ معاملہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا باعث بنا تھا اور متاثرہ خاندان کی سلامتی اور بااثر افراد کے قانون کے غلط استعمال پر سنگین سوالات کھڑے ہوئے تھے۔










