• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جنوری ۲۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
قومی شاہراہ، جس نے میوہ صنعت کی کمر توڑ دی!

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے بدترین سال

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
02/01/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

سال 2025 کو جموں و کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے حالیہ برسوں کا سب سے مشکل سال قرار دیا جا رہا ہے۔ میوہ صنعت سے وابستہ تاجروں اور باغبانوں کے مطابق انہیں تقریباً دو ہزار کروڑ روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس کی بنیادی وجوہات میں سرینگر–جموں قومی شاہراہ کی طویل بندش، سیلاب سے باغات کو نقصان، خراب موسمی حالات، منڈیوں میں مانگ میں کمی اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں بے تحاشا اضافہ شامل ہیں۔

گزشتہ برس اگست کے اواخر میں شدید بارشوں کے بعد جنوبی اور وسطی کشمیر کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں متعدد سیب کے باغات زیرِ آب آ گئے۔ کئی مقامات پر سیب سے لدے درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اسی دوران سرینگر–جموں قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے، جس سے ہزاروں میوہ بردار ٹرک ہفتوں تک راستے میں پھنسے رہے اور ان میں موجود پھل سڑ گیا۔

کئی ٹرک رامبن سے ہی واپس لوٹ آئے، جبکہ جو ٹرک منڈیوں تک پہنچے، ان کا مال خراب پایا گیا۔ طویل تاخیر کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات تین گنا تک بڑھ گئے اور فی باکس کرایہ تقریباً 100 روپے سے بڑھ کر 350 روپے تک جا پہنچا۔ باغبانوں کے مطابق قومی شاہراہ کی مسلسل بندش کے باعث سیب باغات، ٹرکوں اور منڈیوں میں سڑتے رہے۔ اندازاً دو سے تین ہزار ٹرک، یعنی تقریباً 30 لاکھ سیب کے باکس ضائع ہو گئے۔ کشمیر ویلی فروٹ گرورز کم ڈیلرز یونین کے چیئرمین بشیر احمد بشیر نے اس دوران بتایا تھا کہ سیب اور ناشپاتی سے لدے ہزاروں ٹرک قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ہر ٹرک میں 700 سے 1200 باکس ہوتے ہیں، جن کی مالیت 10 سے 15 لاکھ روپے کے درمیان ہوتی ہے، اور خدشہ ہے کہ طویل بندش کے باعث تقریباً 30 لاکھ باکس خراب ہو چکے ہوں گے۔

ادھر منڈیوں میں قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے کھاد، پیکنگ اور ٹرانسپورٹ پر بھاری سرمایہ لگانے والے چھوٹے باغبان قرض کے بوجھ تلے دب گئے۔ اگرچہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھارتی ریلوے نے کشمیر سے دہلی تک محدود پارسل سروس شروع کی، تاہم باغبانوں کے مطابق اس کی گنجائش انتہائی ناکافی رہی۔

نیوزی لینڈ سے سیب کی درآمد

اس بحران کے بیچ اب ایک اور دھچکا کشمیر کی سیب کی معیشت کو تب لگا جب نئی دلی اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارت معاہدے کے تحت سیب پر 25 فیصدی امپورٹ ڈیوٹی کو کم کر دیا گیا۔ نیوزی لینڈ کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت ہر سال نیوزی لینڈ سے 31,392 میٹرک ٹن سیب درآمد کرتا ہے، جس کی مالیت 32.4 ملین امریکی ڈالر ہے۔ جبکہ بھارت کی کل سیب درآمدات 5,19,651 میٹرک ٹن ہیں۔ معاہدے کے تحت پہلے سال نیوزی لینڈ سے 32,500 میٹرک ٹن سیب پر ڈیوٹی میں چھوٹ دی جائے گی۔ معاہدے کے چھٹے سال تک اس مقدار کو بڑھا کر 45,000 میٹرک ٹن کیا جائے گا، جس پر 25 فیصد ڈیوٹی اور کم از کم درآمدی قیمت 1.25 امریکی ڈالر فی کلو رکھی جائے گی۔ اس فیصلے پر باغ مالکان اور تاجروں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔

کشمیر ویلی فروٹ گرورز کم ڈیلرز یونین، جو وادی بھر کی فروٹ گرورز ایسوسی ایشنز نے امپورٹ ڈیوٹی میں کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونین کی جانب سے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کو بھیجی گئی تفصیلی عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ امپورٹ ڈیوٹی کو 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنا سیب پیدا کرنے والے علاقوں، بالخصوص کشمیر، میں شدید تشویش کا باعث بنا ہے جہاں باغبانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔یونین نے کہا کہ ڈیوٹی میں کمی سے نہ صرف نیوزی لینڈ کے سیب بھارتی منڈیوں میں سستے ہو گئے ہیں بلکہ اس بات کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ مستقبل میں دیگر سیب برآمد کرنے والے ممالک کو بھی اسی طرح کی رعایت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مقامی باغبان طویل عرصے سے غیر ملکی سیب سے منصفانہ مقابلے کے لیے امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ وہیں یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب اس وقت وادی کے مختلف کولڈ سٹورز میں قریب تین لاکھ بوکس موجود ہیں۔

میوہ صنعت معیشت کی ریڈ کی ہڈی

جموں و کشمیر کی معیشت میوہ صنعت کو ریڈ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔اس صنعت کے ساتھ قریب سات لاکھ کنبوں کا روزگار بالواسطہ یا بلاواسطہ جڑا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہاں 2.15 لاکھ ہیکٹر زمین پر سیب کی کاشت کی جاتی ہے، جس سے سالانہ 2.4 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے جو بھارت میں سیب کی کل پیداوار کا 78 فیصد حصہ ہے۔ جموں کشمیر ہی نہیں بلکہ ہماچل میں بھی نیوزی لینڈ کے سیب کی امپورٹ ڈیوٹی میں کمی کا اثر پڑتا نظر رہا ہے کیونکہ یہ شعبہ ہماچل پردیش کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور سالانہ تقریباً 5,500 کروڑ روپے کا معاشی حصہ ڈالتا ہے، جبکہ 1.5 لاکھ سے زائد کنبوں کا روزگار اسی سے وابستہ ہے، جن میں اکثریت چھوٹے اور کسانوں کی ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

مرگن ٹاپ، چوہر ناگ اور سنتھن ٹاپ پر ٹریکنگ، کیمپنگ، ہائیکنگ پر پابندی عائد

Next Post

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں-سرینگر نیشنل ہائی وے بند، شدید برف باری اور بارش کی وجہ سے پروازیں متاثر

جموں-سرینگر نیشنل ہائی وے بند، شدید برف باری اور بارش کی وجہ سے پروازیں متاثر

23/01/2026
جموں و کشمیر میں تیز ہواؤں نے تباہی مچا دی، بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات

جموں و کشمیر میں تیز ہواؤں نے تباہی مچا دی، بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات

23/01/2026
سرینگر میں گھریلو ملازم کے ہاتھوں خاتون کا بہیمانہ قتل، بیٹا سعودی عرب میں سی سی ٹی وی پر منظر دیکھتا رہا

سرینگر میں گھریلو ملازم کے ہاتھوں خاتون کا بہیمانہ قتل، بیٹا سعودی عرب میں سی سی ٹی وی پر منظر دیکھتا رہا

22/01/2026
بھارت نے زخم دئے، ان سے ہی مرحم لیں گے : الطاف بخاری

جوڈیشل امتحان کے نتائج پر الطاف بخاری کا سوال، علاقائی عدم توازن پر تشویش، ایل جی سے فہرست روکنے کی اپیل

22/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا، بھارت میں کھیلنے سے انکار

22/01/2026
بھدرواہ۔چمبا سڑک حادثہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ازجان، 11 زخمی

بھدرواہ۔چمبا سڑک حادثہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ازجان، 11 زخمی

22/01/2026
Next Post
گلفام بارجی!  اداکاری سے شاعری تک

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

جموں و کشمیر کے سرکاری تعلیمی ادارے  تشویشناک صورتحال میں ”تعلیم کا اجالا یا انتظامیہ کی تاریکی؟ یو ٹی کے تعلیمی نظام پر ایک نوحہ’’

جموں و کشمیر کے سرکاری تعلیمی ادارے تشویشناک صورتحال میں ”تعلیم کا اجالا یا انتظامیہ کی تاریکی؟ یو ٹی کے تعلیمی نظام پر ایک نوحہ’’

احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

کاروانِ علم و عزیمت کا حدی خواں: مولانا ابوالحسن علی ندویؒ

حوصلہ شکنی کے بجاۓ حوصلہ افزائی کیجئے ہر شخص جینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔!‎

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »