تعلیم ہر ایک قوم کی ترقی کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے، جو قوموں کو عروج عطا کرتا ہے اور جو انسان کو انسانیت کے مرتبے تک پہنچاتا ہے۔ مگر جب یہی تعلیم خود اندھیروں میں ڈوب جائے، جب تعلیمی ادارے بدانتظامی، سفارش کلچر اور نااہلی کا شکار ہو جائیں، جب استاد کا قلم دفتر کی فائلوں میں قید ہو جائے اور بچوں کی کتابیں گرد سے اٹ جائیں، تو سمجھ لیجیے کہ کسی قوم کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے۔ جب بنیادی تعلیم کا نظام بگڑ جائے تو ایک قوم کی ترقی کی راہیں بند ہو جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام میں بدانتظامی، سفارش کلچر، غیر ذمہ داری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے بچوں کا مستقبل تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔ جموں و کشمیر کے کئی سرکاری سکول ایسے ہیں جہاں اساتذہ کی تعداد طلبہ سے زیادہ ہے۔ بعض اداروں میں اس کے برعکس طلبہ کی تعداد زیادہ ہے لیکن وہاں اساتذہ کی شدید قلت ہے۔ ایسی صورتحال ہمیں ضلع بڈگام اور دیگر کئی اضلاع میں دیکھنے کو مل رہا ہیں جیسےضلع بڈگام کے زون ناگام میں پی ایم شری سکول بزگوہ نیل ناگ جہاں بچوں کی تعداد 207 ہیں استاتذہ کی تعداد 18 ہونا چائے تھا لیکن ابھی 6 استاد ہی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اس طرح ہائرسیکنڈری سکول گوگجہ پتھری جہاں 11لکچرار میں سے 5 کام کررہے ہیں اور 6 باقی ہیںبچوں کی تعداد 157، آہنگر محلہ بزگوہ بچوں کی تعداد 47 استاد 2، مڈل سکول خان محلہ بزگوہ استاتذہ کی تعداد 4۔ یہ چند مثالیں ہیں، اسی طرح جموں و کشمیر کے بعض دیگر اضلاع کی بھی یہی حالت ہے۔
نتیجتاً یا تو کچھ سکولوں میں اساتذہ فارغ بیٹھے رہتے ہیں یا کچھ جگہوں پر طلبہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ پڑھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال تعلیمی نظام میں ایک گہرے بحران کو ظاہر کرتی ہے جس کی فوری اصلاح ضروری ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں تعلیم، جو کبھی ترقی اور خوشحالی کی ضامن سمجھی جاتی تھی، اب صرف چند مخصوص طبقات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جن پر تعلیم کو عام کرنے کی ذمہ داری ہے، وہی لوگ اسے اپنی ذاتی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ سرکاری سکولوں کے بیشتر اساتذہ اور افسران بالا شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اپنے بچے تو مہنگے اسکولوں میں بہترین تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لہٰذا انہیں غریب کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی کوئی خاص پرواہ نہیں۔ ان کے نزدیک یہ معصوم بچے محض خانہ پُری کا ذریعہ بن گئے ہیں—کبھی حاضری پوری کرنا، کبھی وقت گزارنا، کبھی فائلوں کا بوجھ اٹھانا، اور کبھی بجٹ کے اعداد و شمار دیکھنا۔
جو حکمران وقت ہیں، جو قوم کے فیصلے کرتے ہیں، وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے تو باہر کے کالجوں میں پڑھ رہے ہیں، انہیں کون سا سرکاری اسکولوں میں آنا ہے۔ لیکن انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔جب وہ برستی ہے تو تخت و تاج والے سکندر بھی خاک میں مل جاتے ہیں، فرعون بھی اپنے لشکر سمیت غرق ہو جاتا ہے، نمرود بھی اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے ظلم کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا، اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ کسی سے علم چھین لیا جائے، اسے جہالت کی طرف دھکیل دیا جائے۔
کبھی سوچا ہے کہ جس بچے کو آپ آج تعلیم سے محروم کر رہے ہیں، کل وہی آپ کے دروازے پر سوالی بن کر کھڑا ہو گا۔ وہی آپ کے سماج میں بوجھ بنے گا، وہی بغاوت کرے گا۔ کیونکہ جب تعلیم نہیں ہوگی تو شعور نہیں ہوگا، اور جب شعور نہیں ہوگا تو عدل و انصاف کا تصور بھی ختم ہو جائے گا۔
آج آپ کے بچے چونکہ امیروں کے اسکولوں میں ہیں، بڑے اداروں میں ہیں، اس لئے آپ کو غریب کے بچے نظر نہیں آتے، لیکن یاد رکھیے! وقت ایک سا نہیں رہتا۔
پھولنے پھلنے کے دن ختم ہوتے دیر نہیں لگتی۔ جب عذاب آتا ہے تو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اے وقت کے حاکمو! اے نظام تعلیم کے ذمہ دارو! خدارا ہوش کے ناخن لو۔ یہ قوم تمہارے سلوک کو دیکھ رہی ہے۔یہ غریب بچوں کی دعائیں بھی سنائی دیتی ہیں اور ان کی آہیں بھی۔ اگر تم نے تعلیم کو ٹھیک نہ کیا، اگر اسکولوں میں حقیقی معنوں میں تدریس کو بحال نہ کیا، اگر استاد کو استاد کے منصب پر نہ لایا تو وہ دن دور نہیں جب تمہیں خود اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ستانے لگے گی۔ کیونکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، مگر جب چلتی ہے تو سب کچھ تہس نہس کر دیتی ہے۔
آج جموں و کشمیر میں تعلیم کی جو صورتحال ہے وہ ایک المناک کہانی بن چکی ہے۔ یہ ایک ایسا نوحہ ہے جسے اگر سنا بھی جائے تو اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ بڈگام کے زون ناگام، چرار شریف، چاڈورہ، کھاگ اور بیروہ کے بیشتر سرکاری تعلیمی ادارے تعلیم کے میدان میں زبوں حالی کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ کہیں استاد کلاس روم میں ہوں تو بھی پڑھانے کے بجائے موبائل فون میں مصروف، اور کہیں استاد تدریسی کام کے بجائے دفتر کی فائلیں سنبھال رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک افسوسناک حقیقت ہے جسے نہ تو حکومت تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی تعلیمی افسران اس کا کوئی حل تلاش کرتے ہیں۔
رہبر تعلیم اساتذہ جنہیں بنیادی طور پر درس و تدریس کے لیے بھرتی کیے گئے تھے، آج کل دفتری کاموں میں مصروف ہیں۔ سفارش کے ذریعےبہت سارے استاد زونل آفس میں فائلیں سنبھالنے کا کام کر رہے ہے۔ یہ اساتذہ بچوں کو پڑھانے کے بجائے کاغذی کارروائی میں مصروف ہیں۔ دفتر میں بیٹھ کر وقت گزارنا شاید ان کے لیے آسان ہو گیا ہے، کیونکہ وہاں ذمہداریوں کا بوجھ کم ہوتاہے افسوس اس بات کا ہے کہ تعلیمی محکمہ نے بھی اس صورتحال کو معمول بنا لیا سفارش اور سیاسی دباؤ کی بنیاد پر دفتری کاموں میں لگائے گئےاستاد قوم کےلئے درد سر ہے لیکن افسر ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں سکولوں میں فائلیں سنبھالنا، دفتر کے امور دیکھنا یا افسروں کے ذاتی کام کرنا ان کی ڈیوٹی بنا دی گئی ہے، جبکہ ان کی اصل ذمہ داری بچوں کو تعلیم دینا ہے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی معیار گر رہا ہے بلکہ بچوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دفتری کاموں کے لیے غیر تدریسی عملہ ہونا چاہیے، تاکہ استاد اپنے اصل فرض یعنی تدریس پر توجہ دیں۔
جموں و کشمیر میں ایسے سینکڑوں سکول ہیں ہیں جو آج بھی کرایہ کے مکانوں میں کام کر رہے ہیں۔ ایسے مکان جن کے کمرے تنگ و تاریک، چھتیں ٹپکتی ہوئی اور فرش خستہ حال ہیں۔ بچے انہی جگہوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی اسکولوں کی عمارتوں پر کام برسوں سے جاری ہے لیکن رفتار ایسی ہے کہ جیسے یہ عمارتیں قیامت تک مکمل نہیں ہوں گی۔ تعمیراتی ٹھیکیدار، محکمہ تعلیم اور افسران کی ملی بھگت سے یہ منصوبے سست رفتاری کے شکار ہیں۔ ان عمارتوں کی حالت اکثر خستہ ہوئی ہے جہاں نہ بیٹھنے کی معقول جگہ ہوتی ہے، نہ پینے کے پانی کی سہولت، اور نہ ہی باتھ روم کی سہولت میسر ہے۔ بچے انتہائی ناموافق حالات میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید گھمبیر بنتا جا رہا ہے۔
کیا کسی نے کبھی سوچا ہے کہ جب ایک استاد کلاس روم میں بیٹھ کر موبائل فون پر مصروف ہوتا ہے تو ایک بچہ اس دوران کیا محسوس کرتا ہوگا؟ جب وہ بچہ استاد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہے مگر جواب میں اسے خاموشی ملتی ہے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ یہی بچے جب پڑھ نہیں پاتے، جب ان کے خواب دم توڑ دیتے ہیں، جب ان کے والدین مایوس ہو جاتے ہیں، تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ضلع کے کئی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کرام پورا دن بیٹھ کر گزار دیتے ہیں۔ ان کے پاس تدریسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بچوں کو پڑھانے کے بجائے موبائل فون میں مصروف رہنا، آپس میں گپ شپ کرنا معمول بن چکا ہے۔ اساتذہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے اعلیٰ افسروں پر دباؤ ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے افسران بھی کارروائی کرنے سے کتراتے ہیں۔کہی پر استاتذہ کرام افسر کا رشتہدار ہونے کے ناطے دوسرے ملازموں پر روب جماتا ہے یوں ایک پورا تعلیمی نظام بے حسی ،لاچاری اور تعلیمی نؓظام کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ،اساتذہ کی یہ بے حسی اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی مجرمانہ خاموشی اس پورے تعلیمی نظام کو بربادی کی طرف لے جا رہی ہے۔ سفارش کا بازار گرم ہے۔ جو استاد اثر و رسوخ رکھتا ہے وہ نہ صرف بدعنوانی میں ملوث ہوتا ہے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ جو افسر ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا ہے وہ دباؤ میں آ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ یوں ایک مکمل نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ جب اس حق کو چھینا جاتا ہے، جب استاد اپنا فرض پورا نہیں کرتا، جب حکومت اور انتظامیہ خاموش تماشائی بن جاتی ہے، تو یہ صرف لاپرواہی نہیں بلکہ ایک قومی جرم ہے۔ یہ بچے جو آج سکول میں تعلیم سے محروم ہیں، کل کو یہی معاشرہ ان کی لاعلمی اور کم علمی کا شکار بنے گا۔ بیروزگاری، جرائم، پسماندگی اور بدحالی اسی وقت جنم لیتی ہے جب قوم کے بچے کتابوں سے دور ہو جاتے ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ضلع کے بچے تعلیم کے نور سے ہمیشہ محروم رہیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آئندہ نسلیں جہالت، بیروزگاری اور پسماندگی کا شکار ہو جائیں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں اصلاحات لائی جائیں۔ اساتذہ کو ان کے تدریسی فرائض کی طرف واپس لایا جائے۔ سفارش کلچر کا خاتمہ کیا جائے، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے اور تعلیمی میدان میں ایمانداری اور لگن سے کام کرنے والے افسران کو آگے بڑھایا جائے۔
کیا کیا جائے؟
اس صورتحال کو بدلنے کے لیے صرف رپورٹیں لکھنا یا اخباری بیانات دینا کافی نہیں۔ اس کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے:
- تمام اساتذہ کو تدریسی فرائض انجام دینے کا پابند بنایا جائے۔
- دفتری کاموں کے لیے الگ غیر تدریسی عملہ تعینات کیا جائے۔
- سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
- کرایہ کے مکانوں میں چلنے والے سکولوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متبادل انتظام کیا جائے۔
- تعلیمی افسران کو ایمانداری سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے پر مجبور کیا جائے، ورنہ ان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جائے۔
- والدین، سماجی تنظیمیں اور مقامی لوگ تعلیمی اداروں کی نگرانی میں حصہ لیں تاکہ احتساب کا عمل مضبوط ہو۔
آخر کب تک ہمارے بچے اس تعلیمی بدحالی کا شکار رہیں گے؟ کب تک ہم استاد کو فائلوں میں مصروف دیکھتے رہیں گے؟ کب تک ہم دیکھتے رہیں گے کہ سکولوں کی عمارتیں ادھوری ہیں، بچے فرش پر بیٹھے ہیں اور استاد کلاس میں موبائل میں مصروف ہے؟ کیا یہ سب دیکھ کر بھی ہم خاموش رہیں گے۔ اور مستقبل کو خاموش قاتلوں کے ہاتھوں مں دھکیل رہے اب بھی وقت دور نہیں جب ہم اپنے ہونہار مستقبل کو محفوظ کر سکتے ہیں۔










