امت نیوز ڈیسک //
شوپیان: اتر پردیش کے ایودھیا میں واقع تاریخی رام مندر کے احاطہ میں مبینہ طور پر نماز ادا کرنے کی کوشش کے بعد جموں و کشمیر کے ضلع شوپیان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عبدالاحد شیخ کو سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب رام مندر میں سخت حفاظتی انتظامات کے دوران عبدالاحد شیخ مندر میں عام زائر کی حیثیت سے داخل ہوئے اور درشن کے بعد سیتا رسوئی کے قریب بیٹھ گئے۔
اسی دوران اس نے مبینہ طور پر نماز ادا کرنے کی تیاری شروع کی۔ جسے دیکھ کر وہاں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر مداخلت کی۔ سیکیورٹی اسٹاف نے حالات کو قابو میں رکھتے ہوئے عبدالاحد شیخ کوحراست میں لے لیا اور بعد ازاں مقامی پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد معاملے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ واقعے کے پس منظر اور محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔
ادھر ضلع شوپیان میں عبدالاحد شیخ کے رشتہ داروں اور مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے ذہنی امراض میں مبتلا ہے اور اس کا علاج بھی جاری ہے۔ عبدالاحد شیخ کے رشتہ داروں کے مطابق اس کی ذہنی حالت مستحکم نہیں رہتی اور وہ اکثر غیر معمولی رویے کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مقامی باشندوں نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے حکام سے اپیل کی ہے کہ قانونی کارروائی کے دوران اس کی طبی حالت اور ذہنی صحت کو مدنظر رکھا جائے۔








