امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 17 جنوری : ایران سے وطن واپس لوٹنے والے درجنوں طلبہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں زمینی صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے اور جتنی سنگین تصویر سوشل میڈیا پر پیش کی جا رہی ہے، حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے قیام کے دوران نہ کسی بدامنی کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی قسم کے خطرے کا سامنا کیا۔
ایران میں میڈیکل اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز کی تعلیم حاصل کرنے والے ان طلبہ نے بتایا کہ اگرچہ انہوں نے خبروں اور آن لائن ذرائع سے احتجاج کے بارے میں سنا، تاہم جن شہروں میں وہ مقیم تھے وہاں روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ خدمات ضرور متاثر تھیں، لیکن کیمپس یا آس پاس کے علاقوں میں خوف و ہراس کی کوئی فضا نہیں تھی۔
کئی طلبہ نے بتایا کہ ان کے بڑی تعداد میں ہم جماعت اور دیگر بھارتی طلبہ نے ایران میں ہی رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری تھیں۔ طلبہ کے مطابق، “ہم نے احتجاج کے بارے میں صرف سنا، لیکن اپنی آنکھوں سے کچھ بھی نہیں دیکھا۔” انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی باتیں مبالغہ آمیز اور گمراہ کن ہیں۔
واپس آنے والے طلبہ کے والدین نے اپنے بچوں کی خیریت سے واپسی پر اطمینان کا اظہار کیا اور آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AIMSA) کا شکریہ ادا کیا۔ والدین نے خاص طور پر AIMSA کے نائب صدر ڈاکٹر محمد مومن خان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طلبہ کی محفوظ واپسی کے لیے انتھک محنت کی۔
والدین نے کہا، “ہم AIMSA اور بالخصوص ڈاکٹر محمد مومن خان کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے بچوں کی محفوظ واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔”
طلبہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران میں کسی قسم کی افراتفری نہیں ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا مواد پر بھروسہ کرنے کے بجائے مستند اور تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں، کیونکہ سوشل میڈیا اکثر حقیقت کے برعکس خوف پھیلانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔










