امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 17 جنوری (: سری نگر کے ایک بزرگ جوڑے کو سائبر فراڈ کرنے والوں نے ڈیجیٹل گرفتاری (ڈیجیٹل اریسٹ) کا جھانسہ دے کر 48 لاکھ روپے سے محروم کر دیا۔
کرائم برانچ جموں و کشمیر کے مطابق، ملزمان نے واٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعے خود کو سی بی آئی کے افسران ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ ایک بڑے مالیاتی فراڈ کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں، جس میں مبینہ طور پر یہ جوڑا ملوث ہے۔ فراڈ کرنے والوں نے خود کو ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI) کے اہلکار بھی بتایا۔
بیان کے مطابق، ملزمان نے جوڑے کو جعلی سی بی آئی اور ٹرائی کے احکامات بھیجے اور دھمکی دی کہ اگر تعاون نہ کیا گیا تو ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد اور جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ فراڈ کرنے والوں نے جوڑے کو کئی دنوں تک مسلسل ویڈیو نگرانی میں رکھا، یہاں تک کہ انہیں باتھ روم جانے کے دوران بھی ویڈیو کال پر رہنے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں بغیر اجازت گھر سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
شدید ذہنی دباؤ کے تحت آ کر بزرگ جوڑے نے مختلف بینک ٹرانزیکشنز کے ذریعے 48 لاکھ روپے فراڈ کرنے والوں کو منتقل کر دیے۔
سائبر کرائم انویسٹی گیشن سینٹر آف ایکسیلنس، کرائم برانچ جموں و کشمیر نے عوام کو دوبارہ متنبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل گرفتاری جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ اگر کسی کو اس طرح کی کال یا دھمکی موصول ہو تو فوراً اسے فراڈ سمجھتے ہوئے ہیلپ لائن نمبر 1930 یا www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فراڈ کرنے والے عموماً بزرگ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جن کے بچے روزگار یا کاروبار کے سلسلے میں باہر مقیم ہوتے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ہوشیار رہیں، کسی بھی دباؤ یا دھمکی میں آ کر پیسے منتقل نہ کریں اور خود کو سائبر جرائم سے محفوظ رکھیں۔











