علم وہ شمع ہے جس نے انسانیت کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی منزلوں سے آشنا کیا۔ یہ وہ قوت ہے جو قوموں کو عروج دیتی ہے اور معاشروں کی تقدیریں بدل دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب وسائل محدود ہوں، مسائل بے شمار ہوں، اور حکومتیں مشکلات کے بوجھ تلے دبی ہوں، تو علم کی اس شمع کو روشن رکھنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا یہ صرف حکومتوں کا فریضہ ہے یا اس میں نجی ادارے بھی شریک ہو سکتے ہیں؟ یہ وہ اہم سوال ہے جس کا جواب آج کے دور میں تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حصول علم کے لیے نجی اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کا ہونا اب وقت کی ضرورت ہے۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ آج دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ ترقی کے ساتھ ساتھ مسائل کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ حکومت کے سامنے اتنے مسائل ہیں کہ ان کو حل کرنے میں صدیوں کا وقت درکار ہے۔ غربت اور بیماریوں کا اتنا عام رجحان ہے کہ حکومت کا ہر فرد اس میں سر کھپا کر بھی حل ڈھونڈنے میں ناکام ہے۔ ایسے میں حکومت کا دھیان دوسرے اہم مسائل پر کم جاتا ہے۔ عالمی قرضوں کا بحران، مہنگائی نے پوری دنیا میں ایمرجنسی کی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ جنگوں اور خانہ جنگی نے رہی سہی قصور پوری کردی ہے۔ گلوبل وارمنگ کی جگہ گلوبل بوائلنگ نے لے لی ہے۔ ہر سال ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 400 بلین ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے 2023 سے لے کر 2030 تک 6 ٹریلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔ یہ اعداد و شمار ہندوستان کے موقر اخبار دی انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئے تھے۔ ان حالات میں جب جینے کے مواقع کم ہوتے جارہے ہوں، تو حکومت کا تعلیمی شعبے کی طرف دھیان جانا محال ہے۔ اب اگر ہم صرف حکومت کی طرف نظر لگائے بیٹھے رہیں کہ وہ ہماری مدد کو آئے گی، تو یہ بیوقوفی کی انتہا ہے۔ ایسے حالات میں نجی تعلیمی اداروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
حکومت پورے ملک کا نظام چلاتی ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کو جامع پالیسیوں کے تحت فروغ علم کے میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔ حکومت کی نگرانی میں ان کے ضابطے ترتیب دیئے جاسکتے ہیں جن کے تحت وہ رہ کر کام کرسکتے ہیں۔ غرباء اور پسماندہ طلبہ کا خیال رکھ کر ایسا نظام ترتیب دیا جاسکتا ہے جہاں صرف پڑھائی پر بنیادی زور ہو۔ نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو دوسرے غیر ضروری کاموں سے دور رکھا جاسکتا ہے اور فروغ علم میں سرگرم رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے حکومت کے کندھوں سے کافی بوجھ ہلکا ہوگا اور وہ دوسرے اہم معاملات پر اپنا دھیان مرکوز کرسکے گی۔ اگر یہ غلط نہ ہو، تو حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر کام میں نجی اداروں کی مدد لے۔ یہ سوال تو سب سے اہم ہے مگر اس کو ہی ہم نے پیٹھ پیچھے دھکیل دیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے جس سے یہ ممکن ہوا ہے کہ نجی اداروں کا کردار زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اوپر ہم نے کچھ وجوہات کا ذکر کیا ہے۔ البتہ کچھ اور بھی ہے جس کی پردہ داری ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں نجی کھلاڑیوں نے جس طرح میدان مارنا شروع کیا ہے اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آنے والا کل نجی اداروں کا ہی ہے۔ ارب پتیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے، جبکہ اس کے برعکس حکومتیں غریب سے غریب تر ہورہی ہیں۔ مگر حکومت کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ ان کی دولت پر ٹیکس لگائے یا پھر ان کے پیسوں سے حکومت کا سہارا بنے۔ تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچہ وغیرہ میں نجی ادارے حکومت کے ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ اس قسم کی سوچ سے ملک کی حالت بہت حد تک بہتر ہوسکتی ہے۔ حکومت کے سست رفتار سے کام کرنے کے طریقوں کی وجہ سے ملک دنیا کی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس خلا کو نجی ادارے بخوبی نبھا سکتے ہیں، خاص کر تعلیم کے شعبے میں۔
حکومت بھی اپنی سطح پر بہت کچھ کرنے کی اہل ہے۔ غیر ضروری کاموں پر وسائل خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ تعلیمی اداروں پر ہی قیمتی وسائل خرچ ہوں۔ آج ہتھیار خریدنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کروڑوں روپے میں خریدے گئے ہتھیار کسی بھی کام کے نہیں ہیں۔ اس سے تو صرف کچھ ممالک کا بھلا ہوتا ہے جبکہ نصف سے زیادہ دنیا تباہی کا شکار ہوتی ہے۔ اگر ان غیر ضروری کاموں کے بجائے یہ پیسہ تعلیمی اداروں پر خرچ کیا جائے، تو امکان ہے کہ ملک کی حالت سنور سکتی ہے۔ غرباء اور پسماندہ بھی تعلیم کے نور سے منور ہوسکتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کو موجودہ زمانے کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے اور جدید قسم کی تعلیم سے اذہان کی وسعت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
وقت کی اہم ضرورت ہے کہ کسی بھی طریقے سے علم کو اس کا اصل مقام واپس دیا جائے۔ اس میں اگر حکومت کو نجی اداروں کی مدد لینی پڑے، تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ ایک خوشگوار تعلیمی نظام دور اندیشی سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس میں آگے بڑھنے کی ہوس کہیں سے بھی درآئے، تو پھر تعلیم بیوپار کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے محدود فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کے حال اور مستقبل کے معاملات میں ہوش کے ناخن لیں۔ دولت آتی جاتی ہے مگر علم کی ایک عمر اور معیاد ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کی لاپرواہی اور کمی قوم کی ناؤ کو ڈبو سکتی ہے۔
آئیے، وقت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ہم سب اس عزم کا اعادہ کریں کہ علم کے اس مقدس سفر میں سرکاری اور نجی ادارے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ کیونکہ جب علم کی روشنی پھیلے گی تو تقدیریں بدلیں گی، غربت دور ہوگی اور معاشرے ترقی کی نئی منزلیں طے کریں گے۔ یہ محض ایک تعلیمی نظام کی بہتری نہیں بلکہ ایک قوم کی نجات کی داستان ہے۔ علم ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسانیت کو عالمی بحرانوں سے نکال کر روشن مستقبل کی طرف لے جاسکتا ہے اور اس راستے پر چلنے کے لیے ہمیں ہر ممکن ذریعہ بروئے کار لانا ہوگا۔










