ڈیسک رپورٹ/کاشف قمر
اترپردیش کے شہرایودھیا میں واقع رام مندر، جسے ہندوستان کی حالیہ مذہبی اور سیاسی تاریخ کی ایک اہم علامت تصور کیا جاتا ہے، ان دنوں ایک سنگین مالیاتی تنازع کے سبب خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دی جانے والی نقد رقوم اور نذرانوں میں مبینہ خرد برد کے الزامات سامنے آنے کے بعد اُتر پردیش پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات مختلف سطحوں پر جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ مقدمہ مندر میں موصول ہونے والی چندہ رقم اور نذرانوں کے حساب کتاب میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان میں رام شنکر یادو عرف ٹنّو، انوکلپ مشرا، لاو کش مشرا، رام شنکر مشرا، اویناش شکلا، منیش کمار یادو، کرونیش پانڈے اور سبھاش سریواستوشامل ہیں۔ ان پر امانت میں خیانت، دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے تمام ملزمان کو چودہ روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے جبکہ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے ابتدائی جانچ کے دوران مالی بے ضابطگیوں کے شواہد جمع کیے، جس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 79.8 لاکھ روپےبھی برآمد کیے گئے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ معاملہ صرف چند افراد تک محدود تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک بھی سرگرم تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب مندر کے اکاؤنٹنگ نظام سے وابستہ ایک سابق اہلکار نے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے۔ بعد ازاں اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی اس معاملے پر حکومت سے وضاحت طلب کی اور عطیات کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا۔اس کے بعد ریاستی حکومت نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس کی ابتدائی رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا۔
یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ رام مندر کی تعمیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی ایک بڑی سیاسی اور مذہبی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ مندر کی تعمیر اور افتتاح کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی نظریاتی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن اب اسی مندر میں چندے کی مبینہ خرد برد نے حکومت اور ٹرسٹ کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے متعلقہ حکام کو سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص عوامی عطیات میں خرد برد کا مرتکب پایا گیا تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو حکومت کی جواب دہی کا امتحان قرار دیتے ہوئے مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس تنازع نے ریاستی اور مرکزی حکومت دونوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔وہیں مختلف ذرائع میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان اس معاملے پر اختلافات کی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی اب تک کسی سرکاری یا معتبر ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب رام مندر ٹرسٹ اور اس سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی بے ضابطگیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، متعلقہ اداروں نے خود شکایت درج کرائی اور تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔ ٹرسٹ سے وابستہ ذمہ داران کا مؤقف ہے کہ چند افراد کی مبینہ بدعنوانی کو پورے ادارے سے جوڑنا مناسب نہیں اور قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔
سیاسی سطح پر بھی اس معاملے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات اور مکمل جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکمراں جماعت اور اس سے وابستہ تنظیموں نے کہا ہے کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا، تاہم پورے مذہبی ادارے کو بدنام کرنا درست نہیں۔
ایودھیا کے بعض مذہبی رہنماؤں اور پجاریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی چندے میں خرد برد کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ عقیدت مندوں کا اعتماد بحال رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مذہبی اداروں میں آنے والے اربوں روپے کے چندے کی شفاف نگرانی، آزاد آڈٹ اور جدید مالیاتی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صرف قانونی کارروائی کافی نہیں بلکہ ایسا نظام بھی قائم ہونا چاہیے جس سے مستقبل میں اس نوعیت کے الزامات کی گنجائش کم سے کم رہ جائے۔
فی الحال یہ معاملہ زیرِ تفتیش ہے اور عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے۔اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ مذہبی اداروں میں جمع ہونے والے عوامی عطیات کی نگرانی کس حد تک مؤثر ہے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جانے چاہیے۔
یاد رہے رام مندر کی تعمیر بھارتی سیاست کے اہم ترین تنازعات میں سے ایک سے جڑی ہوئی ہے۔ جہاں آج مندر قائم ہے وہاں صدیوں تک بابری مسجد موجود تھی، جسے 1992ء میں ہندو انتہاپسند ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ بعد ازاں 2019ء میں سپریم کورٹ نے متنازع اراضی رام مندر کی تعمیر کے لیے دینے کا فیصلہ سنایا جبکہ مسلمانوں کو متبادل زمین فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
22 جنوری 2024ء کو وزیر اعظم نریندر مودی نے رام مندر کی پران پرتِشٹھا (افتتاحی مذہبی تقریب) میں شرکت کی تھی، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی ایک بڑی نظریاتی اور سیاسی کامیابی قرار دیا تھا۔ افتتاح کے بعد سے لاکھوں عقیدت مند مندر کا رخُ کر چکے ہیں اور یہ بھارت کے مصروف ترین مذہبی مقامات میں شمار ہونے لگا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ رام مندر بی جے پی کی سیاست کا ایک اہم ستون رہا ہے، اس لیے اگر تحقیقات میں مزید اہم انکشافات سامنے آتے ہیں تو اس کے سیاسی اثرات آئندہ انتخابات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔





