امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 15 جولائی: نیشنل کانفرنس (این سی) کی اعلیٰ قیادت نے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی (ایم ایل ایز) اور ارکان پارلیمنٹ (ایم پیز) کو ہدایت دی ہے کہ وہ 19 جولائی تک نئی دہلی پہنچ جائیں تاکہ 20 جولائی کو جنتر منتر میں ہونے والے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے حق میں مجوزہ احتجاج میں شرکت کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کی جانب سے جاری ہدایات میں تمام عوامی نمائندوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی مزید اطلاع یا باضابطہ اجازت کا انتظار کیے بغیر مقررہ تاریخ تک دہلی پہنچنے کو یقینی بنائیں۔
یہ احتجاج وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کے اعلان پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ پارٹی نے گزشتہ تقریباً دو برس تک ریاستی درجے کی بحالی کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا، تاہم وعدہ پورا نہ ہونے کے باعث اب جمہوری اور پُرامن احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے احتجاج میں شرکت کے لیے ملک بھر کے 52 ممتاز سیاسی رہنماؤں کو دعوت دی ہے، جن میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، این سی پی (ایس پی) کے شرد پوار، شیو سینا (یو بی ٹی) کے ادھو ٹھاکرے، سابق وزیر اعلیٰ اڈیشہ نوین پٹنائک، اسدالدین اویسی، اروند کیجریوال، مایاوتی، غلام نبی آزاد، محبوبہ مفتی، الطاف بخاری، سجاد غنی لون، میرواعظ عمر فاروق اور دیگر رہنما شامل ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنتر منتر کے احتجاج میں نیشنل کانفرنس کی اعلیٰ قیادت، اراکین اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ، کارکنان اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مدعو رہنما شرکت کریں گے اور جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کو زور و شور سے اٹھائیں گے۔






