(راجوری) نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے بدھ کے روز کہاکہ جموں وکشمیر نے اُس ملک کے ساتھ الحاق نہیں کیا تھا جہاں یہ کہا جائے کہ ’اِس ملک میں رہنا تو جے شری رام کہنا ہے‘،یہاں کے عوام کو تو گاندھی کا ہندوستان دکھایا گیا تھا، ہمیں تو کہا گیا تھا کہ اس ملک میں ہر کسی کا درجہ برابر ہوگا اورہر مذہب کو برابر کے نظریہ سے دیکھا جائے گا لیکن آج ایسا دیکھنے کو نہیں مل رہاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہنا چاہتے ہیں جس میں بھائی چارہ قائم و دائم رہے اور نیشنل کانفرنس کو وراثت میں یہ نعرہ ملا ہے کہ شیر کشمیر کا کیا ارشادہ ہند مسلم سکھ اتحاد ۔“ان باتوں کا اظہار موصوف نے راجوری کے کوٹرنکہ میں ایک بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ نیشنل کانفرنس سب سے زیادہ مضبوط تب رہی جب ہم سب ایک ساتھ اور ایک جُٹ تھے، جونہی ہم بکھر گئے ہم کمزور ہوگئے، جب ہم ایک دوسرے کا الگ الگ ترازو میں تولنے لگے تو ہم کمزور ہوگئے، جب ہم کہنے لگے کہ کون کشمیر کا ہے، کون جموں کا ہے، کون مسلمان ہے، کون سکھ ہے، کون ہندو ہے، کون گوجر ہے، کون پہاڑی ہے اور کون کشمیری ہے اور جب ہم نے فرق کرنا شروع کیا اُسی کے ساتھ ہم کمزور ہوتے گئے اور اسی کمزوری کا خمیازہ ہم سب بھگت رہے ہیں. انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے عوام اس وقت جس پریشانی میں مبتلا ہیں اس پریشانی کی بنیاد وجہ یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کمزور ہوگئی۔این سی نائب صدر نے کہا کہ پچھلے دو 3سال میں بہت کچھ بدلا، جس کا ہم نے کبھی اندازہ بھی نہیں لگایا تھا ، جو کچھ جموں و کشمیر کیساتھ کیا گیا اُس کا شائد کسی کو بھی انداز نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ دفعہ370اور 35اے کو ختم کرنا تو بھاجپا کے منشور میں تھا، لیکن اس کے علاوہ ریاست کے ٹکڑے کئے گئے اور دونوں حصوں کو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کیا گیا، اسمبلی اور قانون ساز کونسل چھین لیا گیا اور ہمیں جمہوری حقوق سے محروم کیا گیا۔اب سوال یہ اُٹھا تا ہے کہ کیا ان سب فیصلوں کا جموں وکشمیر کے عوام کو فائدہ پہنچا کہ نہیں؟کیونکہ 5اگست 2019کو جواز بخشنے کیلئے بڑی بڑی باتیں ہوئیں، بڑے بڑے وعدے ہوئے اور بڑے بڑے اعلانات کئے گئے۔ یہاں تک کہ یہاں کے نوجوانوں سے کہا جارہا تھا کہ یہ ہل والے ترقی اور روزگار میں رکاوٹ ہیں اور مہنگائی اور دیگر پریشانی بھی انہی کی وجہ سے ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ”جب کورونا میں کمی آئی تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں زمینی سطح پر دیکھوں کہ جو باتیں، وعدے اور اعلانات کئے گئے تھے اُن سے کچھ بدلاﺅ آیا ہے کہ نہیں۔ ہمارا آئین، ہمارا جھنڈا، ہماری پہنچان ، ہماری شناخت چھینی گئی ،تو اس کا کہیں نہ کہیں تو فائدہ پہنچا ہوگا۔شائد نئی سڑکیں بنیں ہونگی، شائد نئے ہسپتال بنے ہونگے، شائد بچوں کیلئے نئے سکولوں بنیں ہونگے، اور ان سکولوں میں کمپیوٹر لگے ہونگے۔شائد ہمارے دیہات میں 24گھنٹے بجلی کی فراہمی ہوگی، شائدصاف پینے کے پانی کی سپلائی بلا رکاوٹ جاری ہوگی، شائد ہمارے نوجوانوں کو گھر بیٹھے بیٹھے روزگار کے آڈر مل رہے ہونگے، شائد ہمارے مال مویشی پالنے والوں کو ویٹرنری ڈاکٹر ساتھ چل رہیں ہوگے۔لیکن مسلسل کئی ماہ تک ڈھونڈنے کے باوجود بھی مجھے ان میں سے کوئی چیز نہیں دیکھی۔ اگر کچھ دکھا ہے تو یہاں کے لوگوں کی پریشانی، یہاں کے لوگوں کی مایوسی اور یہاں لوگوں کی بے بسی۔“اُن کا کہنا تھا کہ ”لوگ جائے تو جائیں کہاں؟ بات کریں تو کس سے کریں؟شکایت کریں تو کرے کس سے؟اُن کے مطابق جمہوریت کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ہر ایک ایم ایل اے کو ہر5چھ سال بعد لوگوں کے پاس جاکر اپنی سرٹیفکیٹ پر مہر لگاوانی پڑتی ہے، اور ایم ایل اے کو بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اگر میں لوگوں کے درمیان نہیں رہا تو اگلی بار مجھے لوگ ووٹ نہیں ملیں گے،لیکن افسروں کویہ مجبوری نہیں ہوتی ہے، افسر کو خبر ہوتی ہے کہ 5سال بعد میری ترقی ہونی ہی ہونی ہے، ہر سال کے بعد میری تنخواہ بڑھنی ہی بڑھنی ہے.











