(سرینگر) مرکزی جامع مسجد سرینگر میں بدستور جمعہ کی نماز پر پابندی عائد ہے۔ 29 اکتوبر کو ایک مرتبہ پھر سے جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں ملی۔ اس حوالے سے انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا ہے کہ ‘آج ایک بار پھر ریاستی حکام نے جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی اور علاقے میں صبح سے ہی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔’ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ صبح جب اوقاف کے ملازمین مسجد پہنچے تو فورسز نے انہیں روک لیا اور انہیں کہا کہ نماز جمعہ کی اجازت نہیں ہے۔ انجمن نے کہا کہ حکام کی جانب سے مرکزی جامع مسجد کو بار بار اور جان بوجھ کر نماز جمعہ کے لئے بند کرنا انتہائی افسوس اور قابل مذمت بات ہے۔ انجمن نے کہا کہ وادی کے مسلمان اس ناانصافی اور اپنے مذہبی فرائض میں مداخلت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس کےخلاف شدید احتجاج درج کراتے ہیں۔ انجمن نے اپنے صدر میر واعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کی بھی مذمت کی۔ خیال رہے گزشتہ دنوں متحدہ مجلس عمل نے اپنے ایک بیان میں انتظامیہ کی جانب سے جامع مسجد میں جمعہ نماز پر بندش کے خلاف عوامی مہم چلانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ ادھر درگاہ حضرت بل میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی جس میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔









