(سرینگر) جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے سرکار کو احکامات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بیرونی ریاستوں سے لائی گئی رجسٹرشدہ گاڑیوں سے 9 فیصد ٹوکن ٹیکس نہ لیا جائے۔ توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس علی محمد ماگرے اور جسٹس سنجے دھر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کمشنر سیکریٹری ٹرانسپورٹ، ٹرانسپورٹ کمشنر اور آر ٹی او کو رواں سال 10جون کو جاری کردہ سرکیولر کے خلاف دائر عرضی کا جواب داخل کرنے کیلئے تین ہفتوں کی مہلت دی ہے اور عدالتی احکامات پر عملداری نہ کرنے کی صورت میں مذکورہ آفیسران کو اگلی سماعت جو 2 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے کے روز ذاتی طورپر پیش ہونے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ عدالت عالیہ نے اپنے آرڈر میں کہا کہ درخواست گزار کے وکیل نے پہلے ہی ڈویژن بنچ کے سامنے اپنے دلائل پیش کرنے کے دوران کہا ہے کہ جن بیرونی رجسٹر شدہ گاڑیوں کے مالکان نے رجسٹریشن نشان کی تقویض کے لئے درخواست دی ہے اُن سے نو فیصد ٹوکن ٹیکس کا مطالبہ کیا جارہا ہے حالانکہ مذکورہ گاڑیوں کے مالکان نے پہلے ہی یہ لائف ٹائم ٹیکس ادا کیا ہے۔










