(شوپیاں) وادی کشمیر کے معروف قلم کار ناجی منورمنگل (10 نومبر) کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ ناجی منور کی شاعری اور بچوں کے ادب پر ان کے کام کو زمانہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ ناجی منور جیسی شخصیت کا انتقال پر ملال یقیناً اردو اور کشمیری زبان کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔ ضلع شوپیاں کے کپرن علاقے سے تعلق رکھنے والے 88 سالہ ناجی منور کو ان کی تصنیف ‘شرن ہوند ناجی’ کے لئے سال 2019 میں ‘بال ساہتیہ پُرسکار ایوارڈ’ سے نوازا گیا تھا اور سنہ 2003 میں انہیں ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ناجی منور کا شمار وادی کشمیر کے معروف قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بچوں کے ادب پر جو کام کیا ہے، اسے زمانہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ ناجی منور بیک وقت ایک بڑے شاعر، افسانہ نگار اور مؤرخ تھے انہوں نے اردو اور کشمیری زبان پر بہت کام کیا ہے، حتی کے اپنے گھر کے ایک حصہ کو انہوں نے میوزیم میں تبدیل کردیا تھا۔ ان کا اصل نام غلام نبی لون تھا، جبکہ قلمی نام ناجی منور تھا۔










