(سرینگر) جموں و کشمیر پولیس نے گزشتہ روز حیدر پورہ علاقے میں ہوئے تصادم کے دوران چار افراد، جن میں دو عسکریت پسند، ایک عسکری معاون اور ایک عام شہری، کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن ہلاک شدہ افراد کے رشتے داروں نے پولیس کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انصاف کی مانگ کی ہے۔ ادھر اب کشمیر کے سیاست دانوں نے بھی معاملے کی غیر جاندرانہ تحقیقات کی مانگ کی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ و پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ٹویٹر پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”بے قصور عام شہریوں کو تصادم آرائی کے دوران ڈھال بنانا اور پھر اُن کو گولیوں کے تبادلے میں ہلاک کرکے عسکری معاون قرار دینا ‘اب بھارت سرکار کی رول بُک کا حصہ بن گیا ہے۔’ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ”ضروری ہے کہ معاملے کی قابل اعتماد عدالتی جانچ کی جائے تاکہ سچ کو منظر عام پر لایا جاسکے اور بے تحاشا استثنیٰ کا کلچر ختم کیا جاسکے۔”
Using innocent civilians as human shields, getting them killed in cross firing & then conveniently labelling them as OGWs is part of GOIs rulebook now. Imperative that a credible judicial enquiry is done to bring out the truth & put an end to this rampant culture of impunity. https://t.co/QOJonQ0kyS
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) November 16, 2021
پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے کہا ہے کہ ”حیدر پورہ تصادم کے حوالے سے جو دعوے منظر عام پر آرہے ہیں اس کے پیش نظر ہم سب کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آخر کیا ہوا وہاں اور وہ بھی غیر جانب دارانہ ادارے سے۔” لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے سامنے اپنا مطالبہ رکھتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ”ایسا نہ پہلی بار ہوا ہے اور نہ ہی آخری بار ہے۔ آپ کے پاس اس وقت موقع ہے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ انسانی جانیں کتنی قیمتی ہیں۔”
In the midst of conflicting claims in the Hyderpora encounter the least we deserve is a transparent description of what happened by a neutral institution. This is neither the first time nor the last time. @manojsinha_ U have the opportunity to assert that human lives matter.
— Sajad Lone (@sajadlone) November 16, 2021
سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حیدر پورہ ہلاکتوں کی آزادانہ جانچ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بارے میں جو سوالات اٹھائے جارہے ہیں لازمی ہے کہ واقعے کی شفاف اور آزادنہ جانچ ہو۔
There have been numerous instances of fake encounters in the past and the questions raised about this #hyderporaencounter need to be answered swiftly & in a credible manner.
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) November 16, 2021










