(نئی دہلی) وزیر اعظم نریندرمودی کی جانب سے زرعی قوانین واپس لیئے جانے کے اعلان کے باوجود بھی کسانوں کی احتجاجی تحریک جاری ہے اور کسانوں نے 29نومبر کو پارلیمنٹ تک ٹریکٹر ریلی نکالانے کا اعلان کیا ہے۔ تین زرعی قوانین کو واپس لئے جانے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے بعد اتوار کو جوائنٹ کسان مورچہ کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ کے بعد جوائنٹ کسان مورچہ کے لیڈر بلبیر سنگھ راجے وال نے بتایا کہ میٹنگ میں قانون واپسی پر غوروخوض کیا گیا۔ میٹنگ میں کچھ فیصلے ہوئے ہیں۔ پہلے سے طے شدہ پروگرام چلتے رہیں گے۔ 27 نومبر کو پھر سے جوائنٹ کسان مورچہ کی میٹنگ ہوگی، جو مطالبات باقی رہ گئے ہیں اس پر وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلا خط لکھا جائے گا۔ میٹنگ کے بعد راجے والا نے کہا کہ ہم نے میٹنگ میں طے کیا ہے کہ جو پروگرام جوائنٹ کسان مورچہ نے پہلے طے کئے تھے، وہ آگے بھی جاری رہیں گے۔ جوائنٹ کسان مورچہ نے اتوار کو میٹنگ کرکے فیصلہ کیا کہ آندولن کے لئے سابقہ جو پروگرام مقرر کئے گئے تھے وہ جاری رہیں گے۔ 22 نومبر کو لکھنو میں مہا پنچایت، 26 نومبر کو آندولن کے ایک سال مکمل ہونے پر سبھی محاذ پر بھیڑ بڑھائی جائے گی اور پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس شروع ہونے پر 29 نومبر کو پارلیمنٹ کوچ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سنگھو بارڈر پر جوائنٹ کسان مورچہ (ایس کے ایم) کی میٹنگ سے قبل یوگیندر یادو نے آج میڈیا کے ساتھ بات چیت کی۔ اس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ایس کے ایم کی میٹنگ سے پہلے ہریانہ اسکیم کی ایک میٹنگ ہوئی ہے۔ زرعی قوانین کی واپسی کے اعلان کا خیر مقدم ہے، لیکن ایم ایس پی اور کسانوں کے خلاف درج کیسز پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ ایس کے ایم کی میٹنگ میں ان سبھی موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔









