(نئی دہلی) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج مرکزی کابینہ کی میٹنگ بلائی ہے۔ واضح رہے 19 نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہیے کہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے ایک بل کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ وہیں اس بل کا نام ‘فارم لاز ریپیل بل’ ہوگا- کابینہ کی منظوری کے بعد یہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور کر لیا جائے گا جس کے بعد تینوں زرعی قوانین کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ کابینہ کی میٹنگ آج صبح 11 بجے پی ایم او میں شروع ہوگی۔ اس کے بعد 29 نومبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آغاز میں اس قانون کو واپس لینے کا آئینی عمل شروع کیا جائے گا۔ پارلیمانی قوانین کے مطابق کسی بھی پرانے قانون کو واپس لینے کا عمل بھی وہی ہے جو نیا قانون بنانے کا ہے۔ جس طرح نیا قانون بنانے کے لیے کسی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کرنا پڑتا ہے، اسی طرح پرانے قانون کو واپس لینے یا ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بل پاس کرنا پڑتا ہے۔ صدر کی منظوری ملتے ہی تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ بل کی منظوری میں کتنا وقت لگے گا اس کا انحصار حکومت کی ترجیحات پر ہوگا۔ تاہم، اس کا اندازہ وزیر اعظم کے اعلان سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو دن کے اندر بل کو دونوں ایوانوں سے منظور کر کے صدر کو منظوری کے لیے بھیج دیا جائے گا۔ ایسے میں توقع ہے کہ پہلے ہفتے میں ہی تینوں زرعی قوانین کو واپس لے لیا جائے گا۔ ادھر زرعی قوانین کی واپسی، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دیگر امور پر حکومت کو کسنے کے لئے اپوزیشن جماعتیں بھی تیاری کررہی ہیں۔ اپوزیشن کے الزامات سے نمٹنے کے لئے بھی حکومت لاحہ عمل مرتب دے رہی ہے، قوی امکان ہے کہ آج کے کابینہ اجلاس میں اس پر بھی بات ہوگی۔










