(رام بن) پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی (پی ڈی پی ) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حیدر پورہ مبینہ انکاونٹر میں مارے گئے رام بن کے نوجوان کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے ٹکڑے کرنے کے بعد اب کانگریس کو بھی دو پھاڑ کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔ ان باتوں کا اظہار موصوفہ نے جموں و کشمیر کے ضلع رام بن کے نیل بانیہال علاقےمیں ایک عوامی جلسے کے دوران کیا ۔ پی ڈی پی صدر کے ہمراہ پارٹی کے سینیئر رہنما ڈاکٹر محبوب بیگ، پارٹی ترجمان نجم الثاقب، پارٹی جنرل سکریٹری امتیاز شان کے علاوہ ضلع رامبن کے پارٹی عہدیداران نے شرکت کی۔جلسے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے عوام سے اپیل کی کہ ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر جموں و کشمیر کی کھوئی شناخت اور تشخص کے لیے ان کی پارٹی کا ساتھ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے بل بوتے پر جموں و کشمیر کے لوگوں کے دلوں کو نہیں جیتا جاسکتا۔انہوں نے کہا اس کے لئے مرکزی حکومت کو مسئلہ کشمیر کو حل اور دفعہ 370 اور35 اے کی واپسی کرنی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے امن کے لیے بھارت کو پاکستان سے بات کرنے کی بات پر انہیں غدار کہا جاتا ہے۔ لیکن دوسری جانب مرکزی حکومت طالبان کے ساتھ بات کرنے میں مصروف ہے۔ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کا الحاق گاندھی کے بھارت سے ہوا ہے نہ کہ گوڈسی کے بھارت سے ہوا۔ پارٹی کی صدر نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر کو رکھنا ہے اپنے ساتھ تو آرٹیکل 370 ،35 اے اور مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے ساتھے رکھنا ہوگا۔











