(کوہیما) شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کے اوٹنگ گاؤں میں آرمی کی فائرنگ سے کم سے کم 11 لوگوں کی موت ہوگئی ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگیا ہے۔ یہ واقعہ ہفتہ کی دیر رات پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق آرمی نے مشکوک شدت پسندوں پر کارروائی کا منصوبہ بنایا تھا لیکن غلطی سے علاقے کے عام شہریوں پر گولی چلا دی۔ اس حادثے پر وزیر داخلہ امیت شاہ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ناگالینڈ کے اوٹنگ میں افسوسناک واقعہ سے پریشان ہوں، جن لوگوں نے جان گنوائی ہے، ان کے کنبے کی تئیں میں گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔
Anguished over an unfortunate incident in Nagaland’s Oting, Mon. I express my deepest condolences to the families of those who have lost their lives. A high-level SIT constituted by the State govt will thoroughly probe this incident to ensure justice to the bereaved families.
— Amit Shah (Modi Ka Parivar) (@AmitShah) December 5, 2021
ادھرریاستی سرکار کے ذریعے ایک اعلی سطحی ایس آئی ٹی اس حادثہ کی مکمل تحقیقات کرے گی جس سے سوگوار کنبہ کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ حادثہ کے فورا بعد حالات کشیدہ ہوگیے ہیں۔ آرمی نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے پھر سے فائرنگ کی۔حادثے سے مشتعل لوگوں نے سیکورٹی فورسیز کی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا۔ اس واقعے میں آسام رائیفلس کا ایک جوان بھی ہلاک ہوا ہے۔
ناگالینڈ کے وزیر اعلی نیفیو رییو نے لوگوں سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ حادثے کی ایس آئی ٹی سے جانچ کرائی جائے گی۔
The unfortunate incident leading to killing of civilians at Oting, Mon is highly condemnable.Condolences to the bereaved families & speedy recovery of those injured. High level SIT will investigate & justice delivered as per the law of the land.Appeal for peace from all sections
— Neiphiu Rio (@Neiphiu_Rio) December 5, 2021
دریں اثنا فوج نے ناگالینڈ کے مون ضلع عام شہریوں کی ہوئی اموات کی کورٹ آف انکوائری کا حکم اتوار کو دیا ہے۔
ناگالینڈ کے دارالحکومت کوہیما میں پولیس نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز کی مبینہ گولی باری میں کم سے کم 11 عام شہریوں کی موت ہوگئی اور وہ یہ پتہ لگانے کے لئے جانچ کر رہی ہے کہ کیا یہ غلط پہچان کی وجہ سے ہوا ہے۔فوجی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی میانمار کی سرحد سے متصل مون ضلع میں عسکریت پسندوں کی ممکنہ نقل و حرکت کے بارے میں مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ لوگوں کی موت کے اس ناخوشگوار واقعے کی وجہ ‘کورٹ آف انکوائری’ کے ذریعے اعلیٰ سطح پر جانچ کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔ اس میں کہا گیا کہ آپریشن میں سیکوریٹی اہلکار شدید زخمی ہوئے اور ایک جوان کی موت ہو گئی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے۔









