(سرینگر) چلہ کلان کی شروعات سے کچھ دن قبل ہی شدید سردی نے جموں، کشمیر اور لداخ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ جس کے نتیجے میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ سرینگر میں ایک بار پھر رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی اور شبانہ درجہ حرارت منفی2.6ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دن بھر کھلی دھوپ نکلنے کے باعث راتیں انتہائی سرد ہونے والی ہے اور ریکارڈ ساز ٹھنڈ نے لوگوں کو گوناگوں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ اگلے کئی روز تک موسم مجموعی طور پر خشک رہے گا اور رات کے درجہ حرارت میں مزید گراوٹ آسکتی ہے۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہو نے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں گذشتہ شب رواں موسم سرما کی اب تک کی سرد ترین شب رہی جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.6ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ وادی کشمیر کا شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ مسلسل سرد ترین مقام کے درجے پر فائز ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اگلے ایک ہفتے تک رات کے درجہ حرارت میں مزید کمی متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ آنے والے دنوں کے دوران وادی کے لوگوں کو سخت سردی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس مدت کے دوران درجہ حرارت میں مزید گراوٹ ہوگی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں کے دوران موسم خشک رہے گا تاہم درجہ حرارت مزید گر جائے گا اور وادی کے لوگوں کو شدید سردی کا سامنا کرناپڑے گا۔ وادی کشمیر میں اگر چہ موسم خشک دکھائی دے رہا ہے تاہم شدید سردی کے باعث وادی کے لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں موسم میں کوئی تبدیلی نہ آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے اگلے 24گھنٹوں میں موسم خشک رہنے کی پیشن گوئی ہے۔










