(سرینگر) وادی کشمیر میں تعلیم غریب والدین کے بچوں کے لئے مشکل ہوتی جارہی ہے اور مستقبل میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسرکرنے والے اورمتوسط طبقے سے وابستہ لوگوں کے بچے دسویں سے زیادہ حاصل نہیں کرپائینگے اور یہ تعلیم سرمایہ داروں, سرکاری ملازمین, افسروں, بیروکریٹوں, سیاست دانوں اوربڑے تاجروں کے بچوں کے لئے مقرر ہوگی۔ جس اندازسے تعلیم کوتجارت میں تبدیل کیاجارہاہے اس سے صاف ظاہرہوتاہے کہ غریب والدین کے بچوں کے لئے علم حاصل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا۔ قانون اور سرکار بھی سرمایہ داروں کے اشاروں پر اپنی خدمات انجام دینے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑرہے ہے۔ وادی کشمیر میں تعلیم غریب بچوں کے لئے شجر ممنوعہ بنتی جارہی ہے، وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد پچھلے تین برسوں سے وادی کشمیرمیں ہی نہیں بلکہ ملک کے کئی ریاستوں میں اسکول کالج بندپڑے ہے تاہم وادی کشمیرمیں کوچنگ سینٹرچلانے والوں نے اپنی من مانیاں عروج پرپہنچادی ہے اور ساتھ ساتھ انتظامیہ ان کاکچھ نہیں بگاڑپارہے ہے۔ نامی گرامی کوچنگ سینٹر چلانے والوں نے فارم کی قیمت پانچ سوسے پندرہ سومقررکی ہے اورچارمضامین پڑھانے کے لئے طلاب کے والدین سے 45ہزارسے لیکرایک لاکھ کی رقم وصو ل کی جارہی ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ کی ادائیگی الگ سے کرنی لازمی ہے۔ اسکولوں کالجوں میں تعلیم کے میعارکواونچائیوں پرلے جانے کے لئے جموں وکشمیر سرکارہرسال اگربارہ سوکروڑروپے کی کثیررقم خرچ کررہی ہے اور جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ تعینا ت بھی ہے پھر بھی طلاب کوکوچنگ سینٹروں کارُخ کرنا پڑے تویہ تعلیم کواونچائیوں پرلے جانے کی راہ نہیں ہے بلکہ غریب اورغریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کے طلاب کو تعلیم سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ کیاکشمیر وادی میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی پی ایس، آئی اے ایس افسربننا امیروں، بڑے تاجروں، سیاستدانوں، بیروکریٹوں کے ہونہاروں کوہی حق ہے؟ کیاغریب اس سرزمین سے تعلق رکھنے والے لوگ نہیں ہیں؟ واضح رہے سال 2018میں سرکار نے ایک حکم نامہ جاری کیاتھا جس میں کوچنگ سینٹرکوپہلے رجسٹرکرانا لازمی قرار دیاگیا تھا، کتنے کوچنگ سینٹر یہاں رجسٹرکئے گئے ہے؟ اس بار ے میں کوئی جانکاری عوام کونہیں ہے۔ قوائدوضوابط کیاہے، یہ بھی معلوم نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم نے کوچنگ سینٹرچلانے والوں کوایک مضمون پڑھانے کے لئے ایک سال کے لئے کیافیس مقررکی ہے، ا سکی بھی جانکاری نہیں ہے۔ ایک فارم کی قیمت کیاہے، اس سے بھی کسی کو غرض نہیں ہے بلکہ کوچنگ سینٹرچلانے والوں کے ماڈل ہونے کایہی ثبوت ہے کہ اسکافارم کتنا مہنگاہے۔ اندرجاکریہ کوچنگ سینٹر کس میعارپرکھرے اترتے ہے محکمہ تعلیم نے اس کا کبھی جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی۔ جس اندازسے کوچنگ سینٹرچلانے والے اس مقابلہ آررائی کے دوران میں یہاں کے طلاب کے والدین کولوٹ رہے ہے اسکی کہی مثال نہیں ملتی ہے۔ ہردن اورہرہفتہ غریب والدین کے بچے سرکار سے شکایت تو کرتے ہیں کہ مقابلہ آررائی کے دورمیں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کاموقع فراہم کیاجائے مگرسرمایہ داری، اثررسوخ آڑھے آکران غریب ہونہاروں کے مستقبل کوجسطرح مخدوش بنارہاہے اسکی کہی مثا ل نہیںملتی ہے۔ مقابلہ آررائی نے جہاں وادی کشمیرمیں لوگوںکی طرززندگی کوتباہی کے دہانے پرپہنچادیاوہیں علم کی حصولیابی، اخلاق، آداب، شرم وحیاانسانیت کابھی جنازہ نکل گیاہے۔ سرکارکوچاہئے کہ وہ کوچنگ سینٹرچلانے والوں کوقوائدوضوابط پرچلنے کے لئے مجبور کرے، اگرایسا ناہواتوتعلیم کواونچائیوں پرپہنچانے کے دعوے بے بنیاد اورکھوکھلےہیں۔











