(سرینگر) متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مجلس کا ایک نمائندہ اجلاس جو مرکزی جامع مسجد سرینگر کے صدر دفتر پر ہونا تھا حکام کی جانب سے اجازت نہیں دیئے جانے کے سبب تاریخی میرواعظ منزل سرینگر پر منعقد ہوا۔ مسلسل نظر بندی کے سبب مجلس کے سرپرست اعلیٰ جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمدعمر فاروق اجلاس میں شرکت اور صدارت نہیں کرسکے جبکہ مذکورہ اجلاس کی صدارت کے فرائض سرکردہ عالم دین جناب مفتی نذیر احمد القاسمی نے انجام دیا۔ بیان کے مطابق اجلاس میں جن تنظیموں کے ذمہ داران اور نمائندوں نے شرکت کی ان میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ، مفتی اعظم جموںوکشمیر کی مسلم پرسنل لاء بورڈ، جموں وکشمیر انجمن شرعی شیعان، جمعیت اہلحدیث جموں وکشمیر، اتحاد المسلمین جموں وکشمیر، انجمن حمایت الاسلام، دارالعلوم بلالیہ سرینگر، دارالعلوم سبیل الھدیٰ ، دارالعلوم شیری بارہمولہ ،جمعیت انجمن علمائے احناف، بزم توحید اہلحدیث اوقاف ٹرسٹ، Jammu Kashmir Civil Society forum، کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل، HELP Foundation جموں وکشمیر،اہلسنت والجماعت جموں وکشمیر،مرکزی رابطہ ائمہ مساجد جموں وکشمیر، انجمن نصرۃ الاسلام سرینگر، انجمن مظہر الحق، ڈاکٹر محمد سمیر صدیقی سجادہ نشینی خانقاہ صدیقیہ عیشمقام، دارلعلوم نقشبندیہ کے علاوہ کئی اہم معاصر دینی، ملی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اظہار خیال کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔ اس موقعہ پر کشمیری سماج کو درپیش مختلف النوع مسائل و معاملات کے حل اور یکسوئی کیلئے مجلس کے زیر اہتمام ایک ذیلی کمیٹی بنانے کی تجویز رکھی گئی جو پیش کی گئی قرارداد کے جملہ نکات پر غور و خوض کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل آوری کیلئے متعلقین سے رابطہ کرنے کی پابند ہوگی۔ بیان کے مطابق اجلاس میں جو قرارداد پیش کی گئی اس کی روشنی میں مملکت سعودی عرب کی جانب سے خالص دینی اور دعوتی تحریک ، تبلیغی جماعت پر پابندی کیخلاف فکر و تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سعودی عرب سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اجلاس میں دہلی کے ایک پبلشر کی جانب سے جموں وکشمیر کی ساتویں جماعت کے ایک History and Civics کی کتاب میں حضرت پیغمبر آخر الزماں جناب محمد مصطفیٰ ﷺ اور سیدنا جبرئیل ؑ کی شبیہ بنانے پر شدید فکر و تشویش کا اظہار کیا گیا اور تمام پبلشرز اور نصاب بنانے والے افراد، کمیٹیوں اور ڈائریکٹر ایجوکیشن سمیت ایجنسیوں کو تاکید کی گئی کہ نصاب مرتب کرنے سے قبل اسلامی تعلیمات اور عقائد و اعمال کے تعلق سے مستند علمائے اسلام سے رجوع کریں اوراس ضمن میں انکی رہنمائی حاصل کریں۔ حال ہی میں کرونا وائرس کی وجہ سے یتیم ہوئے بچوں کی فروخت کا سکینڈل سامنے آنے کے پس منظر میں فیصلہ لیا گیا کہ متحدہ مجلس علماء کی ایک ٹیم یتیم خانوں کا دورہ کرکے ان کے بہتر مستقبل کے بارے میں عملی اقدامات اٹھائے گی۔ ائمہ اور خطباء کو فرقہ وارانہ اور مسلکی منافرت پھیلانے والے خطبات سے سختی سے اجتناب برتنے کی ہدایت دی گئی۔ سند یافتہ علماء, ائمہ قاری حضرات اور مؤذنوں کے لئے ماہانہ تنخواہ لگانے کا فیصلہ لیا گیا۔ جامع مسجد سرینگر کو نماز جمعہ کے لئے مسلسل بند رکھنے اور میرواعظ عمر فاروق کی مسلسل خانہ نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ سے جامع مسجد کے تقدس کو بحال کرنے اور میر واعظ عمر فاروق کو رہا کرنے کا مطالبہ دہرایا گیا۔










