(سرینگر) پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا دعویٰ ہے کہ جموں میں بجلی نظام کی بحالی کے لئے فوج کی خدمات حاصل کرنے سے حکومت کا ’گڈ گورننس‘ کا بیانیہ مزید بے نقاب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی مضحکہ خیز پالسیوں سے لوگوں میں احساس بیگانگی اور گھٹن مزید سنگین ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہند نے اس طرح جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کے ختم کرنے کے پیچھے ایجنڈے کو عیاں کر دیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کیا۔
GOI has made its criminal agenda behind scrapping J&Ks special status clear. Motive behind state sponsored loot of our natural resources – illegal auction of sand mining to outsiders, conversion of agricultural land to privatising power transmission is to plunge J&K into chaos. pic.twitter.com/jMg9N8hnk0
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) December 20, 2021
پی ڈی پی صدر نے یہ ٹویٹس محکمہ بجلی کے ملازمین کی ہڑتال کے بعد جموں میں بجلی کی بحالی کے لئے انتظامیہ کی طرف سے فوج کی خدمات حاصل کرنے کے رد عمل میں کئے۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ’ایسے معاملوں میں فوج کو لانے سے حکومت نے اپنے جعلی ’گڈ گورننس‘ کے بیانیے کو مزید بے نقاب کر دیا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ یہاں لوگ مسلسل خوف کے ماحول میں رہتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا: ’ایسی مضحکہ خیز پالسیوں سے جموں وکشمیر کے لوگوں میں احساس بیگانگی اور گھٹن مزید گہری ہوگی‘۔ پی ڈی پی صدر نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا: ’اس طرح حکومت ہند کا جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنے پیچھے کا ایجنڈا بھی عیاں ہوگیا۔ سرکار کی سرپرستی میں ہمارے قدرتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، بیرونی لوگوں کو ریت کی کان کنی کی غیر قانونی نیلامی،زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لئیے تبدیل کرنا اور بجلی نجکاری جموں و کشمیر کو افرا تفری میں ڈالنے کے محرکات ہیں‘۔











