(سرینگر) پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے 20ہزار سے زیادہ ملازمین اور انجینئروں کی جموں و کشمیر میں ‘گرڈ اسٹیشنوں کی مبینہ نجکاری’ کے خلاف ہڑتال دوسرے دن بھی جاری رہی۔ واضح رہے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا فیصلہ 17 دسمبر کو جموں میں پاور ایمپلائز اور انجینئرز کوآرڈینیشن کمیٹی، جموں و کشمیر (پی ای ای سی سی) اور حکومتی نمائندوں (منیجنگ ڈائریکٹر، جے کے پی ڈی سی) کے درمیان دو سرے دور کی بات چیت کے بعد لیا گیا جس میں تعطل کو توڑنے کے لیے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ پاور گرڈ ہمارا اثاثہ ہیں اور انہیں فروخت نہیں کیا جانا چاہیے۔ ادھر حکومت نے ہڑتال کے پیش نظر جموں میں اہم بجلی گرڈوں کی حفاظت اور چلانے کے لئے پولیس اور فوج کی مدد طلب کی ہے، وہیں کشمیر میں آئی ٹی آئی طلباء کی مدد طلب.کی گئی ہے۔












