(سرینگر) انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکام نے آج ایک بار پھر مسلسل 24ویں جمعتہ المبارک کو کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ اور رشد و ہدایتع کے عظیم مرکز جامع مسجد سرینگر میں مسلمانان کشمیر کو نماز جمعہ جیسے اہم فریضے کی ادائیگی کی اجازت نہ دیکر اہالیان کشمیر کے مذہبی جذبا ت کو شید ٹھیس پہنچایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کس قدر افسوس، دکھ اور حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف جموں و کشمیرکی تمام مساجد، خانقاہوں، امام باڑوں اور مذہبی مقامات میں نمازوں اور عبادات کی اجازت ہےجبکہ دوسری طرف بقول انجمن کے آمریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جو ایک المیہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حکمرانوں کا یہ دہرا معیار عوامی سمجھ سے بالا تر ہے۔ انجمن نے اپنے سربراہ میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو5 اگست 2019سے لگاتار نظربند رکھنے کیخلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائی نہ صرف حقوق البشر کی شدید خلاف ورزی ہے بلکہ لاقانونیت کی انتہا ہے ۔ انجمن نے اقوام عالم سے اپیل کی ہے کہ کشمیر کی جامع مسجد کو نماز جمعہ کیلئے کھولنےاور میرواعظ کی رہائی یقینی بنانے کیلئےاپنااثرو رسو خ استعمال کریں۔











