(سرینگر) سرینگر کے نوگام علاقے میں فورسز اور جنگجووں کے درمیان تصادم آرائی میں لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم ٹی آر ایف سے وابستہ تین مقامی جنگجو مارے گئے. کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جنگجووں کے چھپنے کی اطلاع موصول ہونے پر فورسز نے منگل کی رات دیر گئے نوگام علاقے کو محاصرے میں لے لیا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران رات کے قریب دو بجے فائرنگ شروع ہوگئی لیکن ہم نے آپریشن کو روک لیا اور پہلے عام شہریوں کو باہر نکالا۔موصوف آئی جی پی نے کہا کہ اس تصادم آرائی کے دوران لشکر طیبہ کے تین مقامی جنگجو مارے گئے۔انہوں نے کہا کہ تینوں جنگجو دس روز قبل کھنموہ میں سمیر احمد بٹ نامی سرپنچ کی ہلاکت میں ملوث تھے جبکہ وہ قومی شاہراہ پر فورسز پر حملوں کی بھی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔آئی جی پی نے کہا کہ جنگجووں کا یہ ماڈیول پنچوں اور سرپنچوں پر لگاتار حملے کر رہا تھا۔ادھر پولیس کے ایک ترجمان نے نوگام جھڑپ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو سری نگر کے نواحی علاقے نوگام کو محاصرے میں لے کر جونہی تلاشی آپریشن شروع کیا تو وہاں پر موجود جنگجووں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران لشکر طیبہ (ٹی آر ایف ) سے وابستہ تین مقامی جنگجو مارے گئے جن کی شناخت عادل نبی تیلی ساکن گالچی بل چند ہارہ پانپور، شاکر احمد تانترے ساکن رونی پورہ شوپیاں اور یاسر احمد وگے ساکن کوجر فرصل کولگام کے بطور کی ہے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق تینوں سال 2021 سے سرگرم تھا اور اُن کے خلاف متعدد ایف آئی آر بھی درج ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مہلوک جنگجو ٹی آر ایف سے وابستہ تھے اور اُن کی ہلاکت فورسز کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے. انہوں نے کہاکہ مہلوک جنگجو عادل تیلی اوراُس کے ساتھی انسپکٹر پرویز احمد ڈار ساکن نوگام اور جاوید احمد ملک ساکن لرگام ترال کی ہلاکت میں ملوث تھے۔اُن کے مطابق بربر شاہ سرینگر میں فورسز پر ہوئے گرینیڈ حملے میں بھی ان کا ہاتھ رہا ہے جس میں ایک عا م شہری ہلاک ہوا تھا۔اسی طرح شاکر احمد اور یاسر احمد اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد اشرف کی ہلاکت میں ملوث تھے۔تصادم کی جگہ ایک اے کے رائفل ، تین میگزین، چھ پستول راونڈ اور دوسرا قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا ۔دریں اثنا ریل حکام نے اس تصادم آرائی کے پیش نظر بانہال – بارہمولہ ریل سروس کو بدھ کے روز احتیاطی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ لیا.










