(سرینگر) یفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ ہم سالانہ 6000کروڑ روپے کی بجلی خریدتے ہیں جبکہ اس بجلی سے ہمیں صرف 2600کروڑ روپے آمدنی حاصل کرتے ہیں اور اس طرح سے سالانہ 3400کروڑ روپے نقصان اُٹھانا پڑتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلی سرکاروں نے بجلی کے نقصانات کو روکنے کےلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے یہ شعبہ خسارے سے دوچار ہوا ہے اور جموں کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی بجلی کی فراہمی کا نظام متاثر رہا ۔ اس دوران لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ بجلی کی چوری اور اس کا غلط استعمال کے رجحان کو روکنے کےلئے سمارٹ میٹروں کو نصب کرنا ناگزیر بن گیا ہے اور ان میٹروں کو دومرحلوں میں لگایا جائے گا پہلے مرحلے میں میٹر نصب کئے جائیں گے اور دوسرے مرحلے میں ان کو ”پری پیڈ “ موڈ میں تبدیل کیا جائے گا۔انہوںنے بتایا کہ آج سے جموں میں 6603سمارٹ میٹر لگے گھروں کو 4فیڈروں سے جوڑا جارہا ہے جو بہتر اور معقول بجلی حاصل کریں گے ۔ اس موقعے پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سمارٹ میٹر لگانے میں تعاون دیں تاکہ بجلی کا غیر ضروری استعمال اور اس کی چوری پر روک لگ جاسکے ۔ جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بتایا ہے کہ جموں کشمیر میں بجلی کی معقولیت اور اس کے نظام کو درست کرنے میںکسی بھی سرکار نے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا۔ انہوںنے بتایا کہ جب بجلی محکمہ خسارے سے چل رہا ہے تو بجلی کی بہتر سپلائی کس طرح سے ممکن ہوسکتی ہے ۔ ایل جی نے بتایا کہ ہم سالانہ 6000کروڑ روپے کی بجلی خریدتے ہیں جبکہ بجلی فیس کی صورت میں رینو صرف 2400کروڑ روہے ہی حاصل ہوتے ہیں اور اس طرح سے سالانہ 2600کروڑ روپے کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بجلی کی چوری اور اس کا غلط استعمال بھی بجلی خسارہ کی ایک بڑی وجہ سے جس کو روکنے کےلئے سمارٹ میٹروں کی تنصیب ناگزیر بن گئی ہے ۔منوج سنہا نے مزید کہا کہ ہم جموں اور کشمیر میں دو مراحل میں میٹر نصب کریں گے اور اس کے فورا بعد ان میٹروں کو ”پری پیڈ“ موڈ پر ڈالا جائے گا تاکہ بجلی کا مناسب طر ز استعمال اور اس کی چوری پر قد غن لگ جائے ۔ جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ بلا خلل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے سمارٹ میٹر نصب کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سمارٹ میٹروں سے بجلی کی چوری اور معقول بجلی کی فراہمی یقینی ہوگی اسلئے سرکار سمارٹ میٹروں کی تنصیب کی طرف توجہ دی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے جموں میں 6603سمارٹ میٹر لگے گھروں کو 4فیڈروں سے جوڑا جارہا ہے جو بہتر اور معقول بجلی حاصل کریں گے ۔ اس موقعے پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سمارٹ میٹر لگانے میں تعاون دیں تاکہ بجلی کا غیر ضروری استعمال اور اس کی چوری پر روک لگ جاسکے ۔اس اقدام سے صارفین کو بجلی کا ضروری تصرف کا مناسب طرز عمل اور ضرورت پر نظر رکھنے کا موقع فراہم کرے گا ۔انہوںنے بتایا کہ سمارٹ میٹروںکو دوسرے مرحلے میں ”پری پیڈ“ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی تمام حکومتیں جموں و کشمیر کی بجلی کی صلاحیت کو تلاش کرنے اور بجلی کے نقصانات کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت والی انتظامیہ ان لوگوں کو معیاری اور بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے جنہوں نے اپنے گھروں میں میٹر لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں بجلی کی چوری اور ٹی اینڈ ڈی کے نقصانات کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ہم باخبر ہیں اور لوگ میٹر لگانے اور بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔











