امت نیوز ڈیسک //بی جے پی کی ترجمان نپور شرما نے حال ہی میں پیغمبر اسلامﷺ کے بارے میں ایک متنازع بیان دینے کی وجہ سے پارٹی سے چھ برس کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس ساتھ ساتھ بی جے پی ہائی کمان نے دہلی میڈیا انچارج نوین جندل کو بھی پارٹی سے باہر کر دیا ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کرکے پارٹی نے نپور شرما کے متنازع بیان سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور کہا کہ بی جے پی کسی بھی مذہبی شخصیات کی توہین قبول نہیں کرتی ہے۔ کسی بھی مذہب یا فرقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا کوئی بھی خیال قابل قبول نہیں ہے۔
پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور ہیڈکوارٹر انچارج ارون سنگھ نے کہا "بی جے پی کسی بھی مذہبی شخصیات کی توہین قبول نہیں کرتی ہے۔ کسی بھی مذہب یا فرقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا کوئی بھی خیال قابل قبول نہیں۔ ہیڈکوارٹر انچارج کی طرف سے اتوار کو جاری کردہ ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ’’بھارت کی ہزاروں سال کی تاریخ میں ہر مذہب نے ترقی کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ بی جے پی کسی بھی مذہب کے کسی بھی مذہبی شخص کی توہین کی سخت مذمت کرتی ہے۔پارٹی کسی بھی ایسے نظریے کے سخت خلاف ہے، جو کسی بھی فرقے یا مذہب کی توہین کرتا ہو۔ بی جے پی ایسے کسی نظریے کا اشتہار نہیں کرتی ہے۔
بی جے پی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے، نپورشرما کے متنازع بیان سے کنارہ کشیپارٹی نے کہا، "بھارت کا آئین ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔جیسا کہ بھارت اپنی آزادی کا 75 واں سال منا رہا ہے، ہم بھارت کو ایک عظیم ملک بنانے کے لیے پرعزم ہیں جہاں سب برابر ہوں اور ہر کوئی عزت کے ساتھ زندگی بسر کرے، جہاں سبھی بھارت کے اتحاد اور سالمیت کے لیے پرعزم ہیں، جہاں سب ترقی اور ترقی کے ثمرات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
نپور شرما کے خلاف مسلم کمیونٹی کے لوگوں میں ناراضگی ہے، متنازعہ بیان کے معاملے میں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے






