(واشنگٹن) بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی شہری گوبندا پٹنائک دگی ولاسا کا نام دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کرنے سے متعلق تجویز مسترد کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 15 رکنی کمیٹی پر مشتمل تمام کونسل کے اراکین کی رضامندی درکار ہوتی ہے اور بھارت بھی اس کمیٹی کا رکن ہے۔ گوبندا پٹناک دگی ولاسا کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کمیٹی میں پیش کی گئی تھی جس میں پاکستان کے خلاف مبینہ طور پر دہشت گردانہ حملوں کی مالی اعانت اور معاونت میں کردار ادا کیا گیا تھا۔پاکستان کا الزام ہے کہ گوبندا پٹنائک نے 13جولائی 2018 کو مستونگ، بلوچستان میں خودکش بم حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، اس حملے میں 160 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ میڈیا خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے پاکستانی فوج اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل دہشت گرد تنظیموں بشمول ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار (جے یو اے) کی سرپرستی میں مبینہ طور پربھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کیے ہیں۔ واضح رہے 17 نومبر 2019 کو بھارت نے گوبندا پٹنائک کو کابل سے بحفاظت وطن واپس لایا تھا جہاں وہ ایک نجی کنسلٹنگ فرم میں کام کررہے تھے، حکومت ہند کو شبہ تھا کہ پاکستانی ایجنسیاں انہیں گرفتار کرکے پاکستان لے جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔











