• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
منگل, جنوری ۲۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
یونان کی مصنوعی معیشت

یونان کی مصنوعی معیشت

تنزیل الرحمن جیلانی

by امت ڈیسک
24/06/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

آپ میں سے بیشتر افراد نے ”فیک اکانومی‘‘ کا ذکر ضرور سنا ہوگا ۔ دنیا کے کئی ممالک اس معاشی ہتھیار کا استعمال اپنے فوائد کیلئے کر چکے ہیں۔یورپ کا نام سنتے ہی دماغ میں ترقی یافتہ، خوشحال اور خوبصورت ممالک کا تصور آجاتا ہے لیکن یورپ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ اب بھی یورپ میں کئی ایسے ممالک ہیں جو یورپی معیار پر پورا اترنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہی ممالک میں یونان بھی شامل ہے۔ دنیا کے طے کر دہ معاشی اشاریوں کے مطابق تو یونان ایک اچھی معیشت رکھتا ہے لیکن یورپ کے اپنے وضع کردہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔
1981ء میں یونان نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی ،اس وقت یونان کا قرض اور جی ڈی پی کا تناسب28فیصد تھا۔ان اعداد و شمار کو اچھی معاشی صورتحال تصور کیا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کے قرض اور جی ڈی پی کا تناسب اگر 60 فیصد سے کم ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کی معاشی حالت بہتر ہے۔1991ء تک یونان کی غلط حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک پر قرض بڑھتا رہا کیونکہ ان کے اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے ۔ اسی وجہ سے یہ تناسب 28فیصد سے بڑھتا ہوا 97 فیصد تک پہنچ گیا۔1991ء میں یورپی یونین نے یورو کرنسی کا آغاز کیا۔ یونان چاہتا تھا کہ اس کے ملک میں بھی یورو کرنسی استعمال کی جائے لیکن یورپی یونین نے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر کسی ملک نے یورو استعمال کرنا ہے تو اسے ”میسٹرچ‘‘ کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔یورپی یونین کے مطابق یورو صرف وہیں استعمال ہو سکے گا جس ملک کی قرض اور جی ڈی پی کا تناسب60فیصد سے کم ہو گا۔
یورو کرنسی استعمال کرنے کی خواہش نے یونان سے ایک ایسا کام کروایا جس کے نتائج اسے آنے والے وقت میں بھگتناپڑے۔ایک فائنانس کمپنی نے اکانومی کو بہتر دکھانے اور قرض کی رقم کو چھپانے میں یونان کی مدد کی اور یورپی یونین کو یقین دلایا گیا کہ یونان یورو کرنسی کیلئے وضع کردہ معیار پر پورا اترتا ہے اور اس طرح 2001ء میں آخر کار یونان نے یورو کرنسی استعمال کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔2008ء تک یونان کی جی ڈی پی بھی بڑھتی رہی اور بظاہر لوگ بھی خوشحال تھے لیکن یونان کی حکومت اس حقیقت سے لوگوں کو نا آشنا رکھے ہوئے تھی کہ ملک کے قرض میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اسی دوران 2008ء میںپوری دنیا معاشی بحران کی لپیٹ میں آگئی، کوئی بھی ملک اس معاشی افراتفری سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ترقی یافتہ ممالک بھی اس بحران کی زد میں آئے لیکن یونان پر اس کے زیادہ خطرناک اثرات مرتب ہوئے کیونکہ یونان کے معاشی ڈھانچے میں پہلے ہی بہت سی خرابیاں موجود تھی۔
2009ء کو یونان میں حکومت بدل گئی اور نئی آنے والی حکومت نے بتایا کہ سابقہ حکومت بہت بڑے پیمانے پر معاشی اعدادوشمار کی ہیرا پھیری کر رہی تھی۔اعداد و شمار بتا رہے تھے کہ یونان کا بجٹ خسارہ6.7فیصد ہے جبکہ حقیقت میں خسارہ 15 فیصد سے بھی زیادہ تھا۔اس بیان سے یونان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر بہت نقصان پہنچا ۔ یونان میں سرمایہ داری کرنے والی کمپنیوں نے بھی اپنے منصوبے بند کر دئیے، ان کے مطابق ایسے ملک پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا جہاں معاشی اعدادو شمار حکومتی سطح پر بدلے جاتے ہوں۔2010ء تک یونان پر قرض اور بڑھتا گیا اور اس کی کریڈیٹ ریٹنگ بھی کم کر دی گئی ۔صورتحال ایسی ہو چکی تھی کہ کوئی بھی ملک یا ادارہ یونان کو قرض دینے کیلئے تیار نہیں تھا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ یونان ان کا قرض واپس کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔
2010ء میں یونان کی معیشت 300ارب ڈالر تھی لیکن 2017ء تک جی ڈی پی مسلسل منفی رہنے کی وجہ سے اس کی معیشت صرف 200 ارب ڈالر کی رہ گئی۔2013ء تک بے روزگاری کی شرح12فیصد سے بڑھ کر28فیصد ہو گئی۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 60فیصد تک پہنچ چکی تھی۔تعلیم یافتہ لوگوں نے ملک چھوڑنا شروع کر دیااور یورپ کے دوسرے ممالک میں جا کر آباد ہونے لگے۔معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ یونان کو ایک عجیب و غریب مسئلہ درپیش تھا،پوری دنیا بڑھتی آبادی سے پریشان تھی جبکہ یونان اپنی کم ہوتی آبادی سے خوفزدہ تھا۔2005ء میں یونان کی آبادی 11ملین تھی جبکہ 2020ء تک یہی آبادی کم ہوتی ہوئی10.5ملین رہ گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر یونان کی آبادی اسی طرح کم ہوتی رہی تو2050ء تک یہ آبادی صرف8ملین تک رہ جائے گی۔لوگوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی کی جس کی وجہ سے کئی کاروبار بند ہو گئے اور بے روزگاری بڑھتی گئی۔
بدترین معاشی بحران سے نکلنے کیلئے یونانی حکومت نے اپنے اخراجات کم کئے اور آمدنی کو بڑھانے کی کوشش کی ۔ا س کیلئے نئے ٹیکس لگائے گئے، پینشن میں کمی کی گئی اور حکومتی منصوبوں کو کم کردیا گیا۔حکومت کی کفایت شعاری مہم کو عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور 2015ء کو پورے یونان میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ یورپی یونین بھی نہیں چاہتی تھی کہ یونان دیوالیہ پن کا شکار ہو کیونکہ ایسا ہونے سے یورو کی ساکھ پر بھی برا اثر پڑتا۔2010ء میں یونان کو 110ارب یوروز کا ایک بیل آؤٹ پیکج دیا گیا لیکن اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہو سکا۔ 2012ء میں ایک اور بیل آؤٹ پیکچ یونان کو دیا گیا۔ حکومت نے عوام کو سمجھایا کہ اخراجات کم کئے بغیر یونان کسی صورت اس بدحالی سے نہیں نکل سکتا اور یونان کے لوگوں نے زندہ قوم ہونے کا ثبو ت دیتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کو قبول کیا اور 2018ء تک یونان کے معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہونے لگے ۔ آج یونان حقیقتاً اچھے اعدادوشمار کے ساتھ اپنی معاشی حالت مستحکم کرتا نظر آرہا ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی نیشنل کانفرنس کا اولین ایجنڈا: عمر عبداللہ

Next Post

ناکامی سے گھبرانانہیں

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں وکشمیر میں ایل جی سے 5 سال کے بعد محبوبہ مفتی نے کی ملاقات، کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا یہ بڑا مطالبہ

’’تجربات کو جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدلتی…‘‘، اے آر رحمان تنازع پر محبوبہ مفتی کا بیان

18/01/2026
جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

16/01/2026
این ایم سی نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی، طلباء کو دوسرے اداروں میں شفٹ کیا جائے گا

شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل داخلہ معاملہ: "سانپ بھی مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹی”

09/01/2026
گلفام بارجی!  اداکاری سے شاعری تک

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

02/01/2026
قومی شاہراہ، جس نے میوہ صنعت کی کمر توڑ دی!

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے بدترین سال

02/01/2026
کتھ باتھ سے  گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

کتھ باتھ سے گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

26/12/2025
Next Post
ناکامی سے گھبرانانہیں

ناکامی سے گھبرانانہیں

ترکی کے معروف صوفی بزرگ شیخ محمدآفندی انتقال کرگئے

ترکی کے معروف صوفی بزرگ شیخ محمدآفندی انتقال کرگئے

این آئی اے  کے جموں کشمیر کے متعدد مقامات پرچھاپے

این آئی اے کے جموں کشمیر کے متعدد مقامات پرچھاپے

بیٹے کا آن لائن گیمنگ کا نشہ، والد کے اکاؤنٹ سے 39 لاکھ روپے اُڑگئے

بیٹے کا آن لائن گیمنگ کا نشہ، والد کے اکاؤنٹ سے 39 لاکھ روپے اُڑگئے

بڈگام میں 11سالہ لڑکا سرینگر میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا

بڈگام میں 11سالہ لڑکا سرینگر میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »