امت نیوز ڈیسک // جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے درابگام علاقے میں ایک شادی شدہ خاتون، ایک آٹھ ماہ کی بیٹی کی ماں کی پراسرار حالات میں موت ہو گئی۔ متوفی خاتون کے رشتہ دار نے بتایا کہ 24 سالہ رقیہ جان جو کہ محمد یوسف شیخ ساکنہ نیوہ پلوامہ کی بیٹی ہے کی شادی پلوامہ کے درابگام میں ایک سال سے زائد عرصہ سے ہوئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق خاتون بار بار سسرال والوں کے تشدد کی شکایت کرتی تھی خاتون نے اپنے ماموں کو سسرال والوں کے تشدد سے آگاہ کر رہی تھی لیکن انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی کیونکہ اس نے خود ہی شادی کی تھی۔تفصیلات کے مطابق متوفی خاتون کو سسرال والوں نے ہسپتال پہنچایا اور ان کے والدین کو فون پر کہا گیا کہ ان کی بیٹی کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ تاہم ان کے والدین ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی رقیہ مر چکی تھی۔ ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو فون کرتی تھی اور بتاتی تھی کہ اسے اس کے سسرال والے جہیز کے لیے ہراساں کرتے ہیں۔
اسپتال سے ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس نے زہر کھایا تھا لیکن خاتون کی لاش دربگام پلوامہ میں اس کے محلہ پہنچنے کے بعد مقامی لوگوں نے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا۔پلوامہ کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس معاملے کی مکمل تفتیش کر رہی ہے اور موت کی وجوہات جاننے کے لیے متوفی خواتون کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے۔ "ہمیں موت کی اصل وجہ معلوم ہو جائے گی۔ اگر کوئی قصوروار پایا جاتا ہے تو اسے بخشا نہیں جائے گا۔











