سرینگر///سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا نے سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن مباحثے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی جمہوریت کو پیچھے کی طرف ڈھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا میڈیا’کنگاروکورٹ‘کی طرح کام کررہے ہیں اور وہ کسی ایجنڈہ کے تحت بدگمانیاں پھیلا رہی ہے، اکثر مباحثے حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے اور اس میں تعصب نظر آتا ہے۔آج رانچی میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں ججوں کے خلاف بیان بازی کی جارہی ہے، چوں کہ وہ اس پر اپنی صفائی پیش نہیں کرسکتے ہیں، لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ ان کی کمزوری مت سمجھئے جب نوپور شرما کے معاملے پر سپریم کورٹ کے دوججوں نے جو خیالات کا اظہار کیا اس کے بعد سوشل میڈیا میں ان ججوں کے خلاف بیان بازی شروع ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا نیا میڈیم سسٹم بہت طاقتور ہے لیکن اس میں صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی تمیز نہیں آئی ہے وہ ابھی سچ اور جھوٹ کو بھی صحیح طریقے سے نہیں پرکھتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس سے ہماری جمہوریت کو نقصان ہوگا ۔ کچھ میڈیاگھرانے تعصبی ذہن رکھتے ہیں اور یہ ہمارے جمہوری نظام کے لیے نقصاندہ ہے ، انہوں نے کہا پرنٹ میڈیا ابھی بھی محتاط طریقے سے کام کررہے ہیں جب کہ الیکٹرانک میڈیا کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی ہے اس سے بھی خطرناک ہے سوشل میڈیا۔انہوں نے میڈیا کو صلاح دی کہ وہ اپنے رپورٹ بناتے وقت نرم لحظہ اپنائے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہےے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہمیں جمہوری نظام کی آبیاری کرنی ہے تواس کے لیے عدلیہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ عدلیہ اور ججز اور عدلیہ آئے دن تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں، ایک طرف سیاست دان ، پولیس افسران اور اعلیٰ افسروں کو سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے ،لیکن ججوں کو یہ سہولیات نہیں دی جارہی ہے، لوگوں کا ملک کے دستور پر اعتماد اٹھ رہا ہے۔










