امریکہ جسے ہم دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ مہذب سمجھتے ہیں حقیقتاً وہ ایسا نہیں ہے۔یہاں شدت پسندی کی شرح گھٹنے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ حال ہی میں جب امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک پرائمری سکول میں فائرنگ کے دوران19بچوں سمیت 21افرادکو ہلاک کیا گیا تو اس موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن میڈیا کے سامنے بے بسی اور مایوسی کے عالم میں کھڑے تھے۔
امریکہ میں فائرنگ سے ہلاکتوں کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا، اسکولوں اور دیگر مقامات پر ہر کچھ عرصہ بعد فائرنگ کے واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔چونکہ امریکہ میں اسلحہ رکھنا ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے اس لئے امریکہ میں اسلحہ کے خلاف اتھنے والی ہر تحریک بے اثر ثابت ہوتی رہی ہے کیوں کہ یہاں پر اسلحہ رکھنے کے قوانین کو تحفظ دینے والے افراد اور گروپس جنہیں ”گن لابی ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے وہ انتہائی بااثر ہیں۔ گن لابی میں سب سے نمایاں تنظیم کا نام ”نیشنل رائفل ایسوسی ایشن ‘‘ ہے۔
امریکی آئین اس بارے کیا کہتا ہے: 15 دسمبر 1791 ء کو نئی قائم شدہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے بل آف رائٹس کی توثیق کی جو آئین میں پہلی دس ترامیم ہیں۔اس کی رو سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی تصدیق ہوتی ہے۔اسی آئینی ترمیم کے تحت ہی شہریوں کے ہتھیار رکھنے کے حقوق کو ،آزادی رائے ، پریس ، مذہب اور اجتماع کی آزادی کے حقوق کو تسلیم کیا گیا۔
1871ء میں امریکہ میں خانہ جنگی عروج پر تھی، جب دو سابق فوجیوں ولیم کونینٹ اور کیپٹن جارج ووڈ ونگیٹ نے اپنی، اپنے خاندان اور نہتے لوگوں کی بقا اور حفاظت کیلئے ایک گروپ کا آغاز کیا۔ جس کا مقصد رائفل شوٹنگ کی سائنسی بنیادوں پر حوصلہ افزائی کرنا تھا۔اسے حقیقی پذیرائی 1934ء میں ملی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اس گروپ نے ملک بھر میں اسلحہ کی اہمیت اور ضرورت بارے رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے قانون سازوں کو قانون سازی بارے قائل کرنا شروع کیا۔ اس ایسوسی ایشن کی کاوشیں رنگ لائیں اور یوں گن کنٹرول قوانین کے تحت دو نئے قوانین ”فائر آر ایکٹ1934ء‘‘ اور ”گن کنٹرول ایکٹ 1968ء ‘‘ کی حمایت کی گئی۔ اس کی باقاعدہ منظوری 1970ء میں ہوئی ۔
اس گروپ نے 1975ء میں اپنا قانونی شعبہ ” لیجسلیٹو ایکشن ‘‘کا باقاعدہ آغاز کیا جس کا کام گن کنٹرول قوانین کا جائزہ لینااور قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔1977ء میں اس گروپ نے اپنے اثر ورسوخ کو وسعت دینے اور فعال بنانے کیلئے ”سیاسی ایکشن کمیٹی ‘‘ قائم کی جس کا بڑا مقصد گن کنٹرول قوانین کو مزید فعال بنانے کیلئے قانون سازوں کو مالی مدد دینا تھا۔
بااثر اور مضبوط تنظیم : این آر اے اس وقت امریکہ کا مخصوص مفادات کے تحفظ کا سب سے بڑا اور بااثر لابی کرنے والا گروپ بن چکا ہے۔ اس کی مضبوطی کا اندازہ اس کی مالی حالت سے لگایا جاسکتا ہے۔اس کے پاس بندوق رکھنے کے حق کو محفوظ رکھنے کیلئے قانون سازوں پر اثر انداز ہونے کیلئے ہر قسم کے مالی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔اس کی مالی حیثیت کا اندازہ اس رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق یہ تنظیم ہر سال لگ بھگ 25کروڑ ڈالر خرچ کرتی ہے۔ این آر اے سرکاری گن پالیسی کی حمایت پر اثر انداز ہونے کیلئے سالانہ تقریباً 30لاکھ ڈالر خرچ کرتی ہے۔اس تنظیم کے عہدے دار یہ دعویٰ بھی کرتے ہیںکہ ملک کی بڑی بڑی شخصیات بھی اس تنظیم کے ممبر ہیں یا رہ چکے ہیں۔ جن میں سابق صدر جارج ایچ ڈبلیو بش ، سابق نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن ، اداکار ٹام سیلیک اور گولڈ برگ شامل ہیں ۔
واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں اس وقت حکومتی اکابرین اور تنظیم این آر اے قانونی جنگ کے میدان میں آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ حکومتی وکلاء اس تنظیم کو تحلیل کرنے کیلئے قانونی جنگ میں پیش پیش ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس تنظیم کی اعلیٰ قیادت نے تنظیم کے فنڈ کو سیاسی رشوت اور ذاتی مقاصد کی تشہیر کیلئے استعمال کیا ہے۔جبکہ این آر اے اس مقدمہ کو بے بنیاد اور ذاتی مفادات کا منصوبہ قرار دے رہی ہے۔این آر اے کا نعرہ ہے ، ” زیادہ بندوقیں ملک کو محفوظ بناتی ہیں‘‘۔ ”اوپن کیری ‘‘ یعنی سرعام اسلحہ کی پر امن نمائش بھی اس تنظیم کے آئین کاحصہ ہے۔
نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی میںقانونی ماہرین کی حکومتی ٹیم اس تنظیم کو معطل کرانے کی جنگ میں سرگرم عمل ہے۔ان ماہرین کا مؤقف یہ ہے کہ گن کے آزادانہ استعمال سے ملک میں دہشت گری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ” گن کی اس جنگ ‘‘ میں فتح گن مافیا کی ہوتی ہے یا امریکی حکومت کی۔










