لیبیا میں صدر معمر قذافی کی حکومت ختم ہوئے کئی برس ہو گئے لیکن یہ ملک آج تک بدامنی، خانہ جنگی کا شکار ہے۔ داخلی جنگ و جدل میں اب تک دو ہزارافراد ہلاک، لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ لیبیا انسانی سمگلنگ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ وہ تحفہ ہے جو امریکہ اور یورپ نے آمریت سے نجات اور جمہوریت کے قیام کے نام پر لیبیا کے عوام کو دیا۔ صدر قذافی نے شمالی افریقہ میں واقع اس ملک کے مختلف قبائل کو اپنے ایک مخصوص نیم آمرانہ نظام حکومت کے ذریعے متحد کیا ہوا تھا۔ امریکہ کو راضی کرنے کی خاطر قذافی نے ایٹمی پروگرام بھی ترک کر دیا تھا لیکن پھر بھی امریکہ نے ان کے خلاف بغاوت کی سرپرستی کی، لیبیا پر نیٹو افواج سے حملہ کروایا۔ برطانیہ اور فرانس نے امریکہ کی مدد کی۔ صدر قذافی کی حکومت ختم ہو گئی جنہیں بعد میں باغیوں نے بے رحمی سے قتل کردیا۔ صدر قذافی کے جانے کے بعد لیبیا کو جمہوریت تو نہ ملی جس کے سبز باغ دکھا کر بغاوت کو ہوا دی گئی تھی البتہ وہاں کے پنیسٹھ لاکھ عوام اس امن و خوشحالی سے محروم ہو گئے جو قذافی کے زمانے میں انہیں حاصل تھی۔
اس وقت لیبیا دو حصوں میں منقسم ہے۔ اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت لیبیا کے شمال مغرب میں واقع دارالحکومت طرابلس اور اس کے نواح تک محدود ہے۔ باقی 80 فیصد لیبیا میں جنرل خلیفہ ہفترکی حکومت ہے جس کا ہیڈ کوارٹر لیبیا کے شمال مشرقی شہر تبوک میں واقع ہے جہاں ایک نام نہاد منتخب پارلیمنٹ موجود ہے۔ چھ سات سے زیادہ بڑے ممالک لیبیا کی خانہ جنگی میں کسی نہ کسی فریق کا ساتھ دے رہے ہیں، اسلحہ اور کرائے کے سپاہی بھیج رہے ہیں۔ روس اور فرانس جنرل ہفتر کے ساتھ ہیں جبکہ اٹلی اور ترکی طرابلس کی محصور حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔شمالی افریقہ میں واقع لیبیا میں بیرونی دلچسپی اور مداخلت کی ایک بڑی وجہ اس کی جغرافیائی اہمیت ہے۔ اس کا محل وقوع تزویراتی (اسٹرٹیجک) اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ لیبیا کے شمال میں مشرقی بحیرۂ روم کے ساتھ اس کا اٹھارہ سو کلو میٹر طویل ساحل ہے۔
سمندر کے دوسری طرف یورپ ہے۔ لیبیا کے مشرقی شمال میں واقع بن غازی اور راس لانوف جبکہ وسطی شمال میں سرت اور مغربی شمال میں طرابلس کی بندرگاہیں بین الاقوامی سیاست میں اہمیت رکھتی ہیں۔ فرانس، روس اور ترکی کی نگاہیں لیبیا کی بندرگاہوں پر ہیں ،جہاں اگر ان کے قدم جم جائیں تو وہ مشرقی بحیرۂ روم کی عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صدر قذافی کے زمانے میں روس لیبیا کا قریبی اتحادی تھا۔ روس دوبارہ وہاں قدم جمانے کیلئے کوشاں ہے تاکہ وہ اس علاقے میں نیٹو کے مقابلہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکے۔ قریبی ملک شام میں وہ پہلے سے موجود ہے۔ روس کھل کر جنرل ہفترکا ساتھ دے رہا ہے۔ اس کے برعکس ترکی طرابلس کی حکومت کے ساتھ ہے۔ حال ہی میں ترکی نے طرابلس کی مدد کیلئے اپنے فوجی دستے بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے کیونکہ ہفتر اسے فتح کرنے کیلئے بار بار حملے کر رہا ہے۔ ترکی کی مخالفت میں اور اس کے پھیلتے ہوئے اثر ورسوخ کو روکنے کیلئے سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات بھی جنرل ہفتر کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مصر کے جنرل سیسی یہ سمجھتے ہیں کہ لیبیا میں القاعدہ اور داعش جیسے شدت پسند مسلح گروپ سرگرم ہیں۔ انہیں صرف ہفترجیسا حکمران ہی کچل سکتا ہے۔ فرانس بھی اسی خیال کا حامی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ہر اعتبار سے جنرل ہفتر کو زیادہ ملکوں کی حمایت اور مدد حاصل ہے اور اس کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے۔ اس کے راستے کی بڑی رکاوٹ صرف ترکی ہے۔
شمالی افریقہ میں تیل کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر لیبیا میں پائے جاتے ہیں۔ موجودہ ذخائر سے اگلے ستر برس تک تیل نکالا جا سکتا ہے۔ اس کے پاس قدرتی گیس کے وسیع ذخائر بھی ہیں۔ گزشتہ سال لیبیا نے بیس ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا تیل برآمد کیا۔ صدر قذافی کے دور میں روسی کمپنی روزنیٹ کے پاس لیبیا میں تیل نکالنے، بیچنے کے بڑے ٹھیکے تھے جو ان کے جانے کے بعد ختم ہو گئے۔ اب روس کے ساتھ ساتھ فرانس، اٹلی، ترکی کی نظریں لیبیا کے تیل کے ذخائر پر ہیں۔ جنوبی علاقہ میں الشرارہ اور رالفیل نامی تیل کے بڑے کنویں ہیں۔ مشرقی میں لیبیا کے سمندر میں بھی تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اگلے تین برسوں میں لیبیا کے تیل کی پیداوار دوگنی ہو جائے گی۔ چین کیلئے بھی لیبیا کا تیل اہم ہے۔ گزشتہ چار سال میں لیبیا سے چین جانے والے تیل کی مقدار دوگنی ہو چکی ہے۔ تاہم اس خانہ جنگی میں چین ابھی تک غیر جانبدار ہے۔
لیبیا کی ایک اور کشش تعمیرات کے ٹھیکے اور سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔ نیٹو کے حملوں اور بعد میں خانہ جنگی سے جو تباہی مچی اس کے بعد لیبیا میں سڑکوں، عمارات وغیرہ کی تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ یہ اربوں ڈالر کے ٹھیکے ہیں۔ روس لیبیا میں ریلوے لائن بھی بچھانا چاہتا ہے۔ طرابلس کی حکومت چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کا حصہ بننے کا اعلان کر چکی ہے۔ قطر لیبیا میں سرمایہ کاری کے مواقع دیکھ رہا ہے لیکن اس کے مخالف عرب ممالک نہیں چاہتے کہ قطر وہاں داخل ہو۔
یورپ کیلئے لیبیا اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ افریقہ کے لوگوں کیلئے یورپ میں داخل ہونے کے ایک بڑے دروازہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ افریقہ سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے لیبیا کے راستے ہی سمندر پار کرکے اٹلی پہنچتے ہیں جہاں سے یورپ کے دیگر ملکوں میں پھیل جاتے ہیں۔ جرمنی اور اٹلی کی بڑی تشویش یہ ہے کہ لیبیا میں خانہ جنگی بند نہ ہوئی تو وہاں سے نقل مکانی کرنے والے اور افریقہ سے بذریعہ لیبیا یورپ پہنچنے والے لوگ ان ملکوں کیلئے بڑے مسائل کا سبب بنیں گے۔ یہ ممالک پہلے ہی شامی مہاجرین سے پریشان ہیں۔ اسی لئے جرمنی لیبیا میں خانہ جنگی رکوانے کیلئے مذاکراتی عمل میں پیش پیش ہے۔ لیبیا میں خانہ جنگی رکنے کا انحصار زیادہ تر اس بات پر ہے کہ جنرل ہفتر طرابلس کی فتح کا ارادہ ترک کر دے اور اس بات پر رضامند ہو جائے کہ جو فریق جہاں ہے وہاں تک محدود رہے۔ تاہم مکمل امن کا قیام اور لیبیا کے ایک ملک کے طور پر یکجا ہونے کا عمل مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا۔










