سرینگر // تعلیمی نظام میں بہتری اور جموں اور کشمیر میں یکساں تعلیمی نظام لاگو کرنے کیلئے صوبائی انتظامیہ کشمیر نے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحان کیلئے مارچ سیشن لاگو کرنے کو ہری جھنڈی دکھائی ہے اور اس ضمن میں ایک ہفتے کے اندر اندر با ضابطہ طور پر حکمنامہ جاری کیا جائے گا ۔ کشمیر میں مارچ تعلیم سیشن لاگو کرنے کی قیاس آرائیوں کے بیچ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحان کیلئے نومبر اور دسمبر کے بجائے مارچ سیشن کے تحت منعقد کیا جائے گا ۔ انتظامیہ کے اعلیٰ افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دسویں اور بارہویں جماعت کیلئے امتحانی سیشن کو نومبر دسمبر کے بجائے مارچ سیشن میں منتقل کیا گیا ہے اور اب یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کیلئے امتحان مار چ سیشن میں منعقد ہونگے اور اس ضمن میں اگلے ایک ہفتے میں با ضابطہ طورپر حکمنامہ جاری کیا جائے گا ۔ یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ محکمہ اسکولی ایجوکیشن نے کشمیر اور جموں میں یکساں تعلیمی سیشن لاگو کرنے کیلئے ایک منصوبے کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جن کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان سے دیگر تجاویز بھی طلب کر لی گئی تھی ۔ اس سے قبل جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا نے کہا تھا کہ جموں اور کشمیر میں یکساں تعلیمی پالیسی لاگو کی جائے گی تاکہ قومی تعلیمی پالیسی کو جموں کشمیر میں بھی مکمل طور پر لاگو کی جائے جبکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے بھی اس پالیسی کو جموں کشمیر میںلاگو کرنے کیلئے سال 2022-23کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعت کیلئے مارچ سیشن کو لاگو کرنے کیلئے طلبہ اور والدین میں بھی تشویش کی لہر پائی جا رہی تھی جبکہ وہ بھی اس شش و پنج میں تھے کہ کیا اسی سال کشمیر میں مار چ سیشن لاگو کیا جائے گا یا اس میںمزید تاخیر ہو سکتی ہے تاہم سرکار نے تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے ۔









