سرینگر : جموں وکشمیرلیگل سروسزاتھارٹی کے ایگزیکیٹوچیئرمین جسٹس علی محمدماگرے نے یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں اس بات کویقینی بنانے پرغور کیاگیا کہ زیرسماعت قیدیوں یاملزموں کو دوران حراست بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ آر کے گوئل،ڈائریکٹرجنرل جیلخانہ جات ایچ کے لوہیا،پرنسپل سیکریٹری ایسٹیٹس آلوک کمار،قانون ،انصاف وپارلیمانی امورکے سیکریٹری اچل سیٹھی اورممبرسیکریٹری لیگل سروسزاتھارٹی ایم کے شرما موجود تھے۔ میٹنگ کے دوران ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے جسٹس ماگرے کوجموں کشمیر کے مختلف جیل خانوں میں قیدیوں کیلئے دستیاب سہولیات اورماضی میں لائی گئی بہتری کی جانکاری دی۔میٹنگ میں بتایاگیا کہ جموں کشمیرکے جیل خانوں میں3629قیدیوں کے رکھنے کی گنجائش کے باوجود یہاں 5148ق یدی رکھے گئے ہیں۔اس طرح جیل خانے اوسطاً142فیصد بھرے پڑے ہیں۔تاہم یہ بھی بتایاگیا کہ حکومت جیل خانوں کے ڈھانچوں کوبڑھاوادینے کی تجویزرکھتی ہے تاکہ جیلوں میں بھیڑ کوکم کیاجائے۔جسٹس ناگرے کوبتایا گیا کہ2022میں کل425ای ملاقاتیں قیدیوں اور ان کے رشتہ داروں کے باہم کرائی گئیں۔میٹنگ کے دوران اس عزم کودہرایا گیا کہ جیلوں میں قیدیوں کو بہترکھانا،طبی سہولیات،اورمعقول جگہ فراہم کرنے کیلئے تمام اقدام کئے جائیں گے۔جسٹس ماگرے کویہ بھی بتایاگیا کہ جیلوں میں اگنو کے 5مراکزکام کررہے ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ باقی جیلوں میں بھی اگنو کے مراکزقائم کئے جائیں گے۔
میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر انتظامیہ نے جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھے جانے والی دعووں کو تسلیم کیا ہے۔ واضح رہے فی الوقت مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کی 14 جیلوں میں 5148 قیدی ہیں جبکہ منظور شدہ گنجائش 3629 کی ہے۔
ادھر ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ ’’میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ آر کے گوئل، ڈی جی جیل ایچ کے لوہیا، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سیکریٹری آلوک کمار، سیکریٹری قانون، انصاف اور پارلیمانی امور اچل سیٹھی اور رکن سیکریٹری جے اینڈ کے لیگل سروسز اتھارٹی ایم کے شرما نے میٹنگ میں شرکت کی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جسٹس ماگرے نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ’’قیدیوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں کیونکہ وہ بھی انسان ہیں اور تمام بنیادی حقوق کے حقدار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس ماگرے نے اراکین پر زور دیا کہ وہ قیدیوں کی کونسلنگ کی فریکوئنسی میں اضافہ کریں اور جیلوں سے رہائی کے بعد ان کی مناسب باز آبادکاری کو یقینی بنائیں۔ ترجمان نے کہا کہ میٹنگ کے دوران گوئل نے جسٹس ماگرے کو جموں و کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربندوں کے لیے دستیاب سہولیات اور ماضی قریب میں کی گئی اپگریڈیشن کے بارے میں آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ بتایا گیا کہ جموں و کشمیر یو ٹی کی 14 جیلوں میں 3629 کی منظور شدہ گنجائش کے مقابلے میں 5148 قیدی ہیں۔ اس لیے جموں و کشمیر میں جیلوں کی اوسط بھیڑ بھاڑ کی شرح 142فیصد ہے۔‘‘ ترجمان نے مزید کہا کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ جسٹس ماگرے کو مزید بتایا گیا کہ سال 2022 میں قیدیوں اور ان کے رشتہ داروں کے درمیان کل 425 ای ملاقاتیں ہوئیں۔









