سرینگر: جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے وفد نے یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ اس وفد کی قیادت اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ چند سینئر لیڈران تھے۔ وفد نے آج صبح تقریبا 11:30 بجے ایل جی سے راج بھون میں ملاقات کی اور ریاستی درجہ کی بحالی پر میمورنڈم پیش کیا۔
ریاستی درجہ کی بحالی پر اپنی پارٹی کا وفد ایل جی سے ملاقی
ملاقات کے بعد الطاف بخاری نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ایل جی منوج سنہا کو میمورنڈم پیش کیا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحالی کیا جائے۔
الطاف بخاری نے بتایا کہ اس کے علاوہ انہوں نے ایل جی سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے روزگار کے لئے سرکاری ملازمت کی بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور تیزی لائی جائے۔ اس کے علاوہ جو نوجوان گزشتہ کئی ماہ سے پولیس حراست میں ہیں انہیں جلد رہا کیا جائے تاکہ ان کے والدین راحت کی سانس لے سکیں اور یہ نوجوان اپنی زندگی امن و سکون سے گزارے۔واضح رہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں 2 ستمبر کو اپنی پارٹی صدر الطاف بخاری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری پارٹی تین اہم اور غیر معمولی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے تشکیل دی گئی تھی۔ ان تین مقاصد میں جموں و کشمیر کے باشندوں کو ملازمت کا تحفظ، جموں و کشمیر کی زمینیں صرف جموں و کشمیر کے لوگوں کو ہی مختص کی جائیں، اور جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے، شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر چیزیں بھی ہمارے مقاصد میں شامل تھیں۔
الطاف بخاری نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے متعدد مقامات پر پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان سے ساتھ میٹگز ہوئیں، ان میٹنگز میں متفقہ طورپر یہ فیصلہ لیا گیا پارٹی کی جانب سے ایک وفد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کر کے جمو ں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرینگے۔ اس کے علاوہ خطہ کے تمام اضلاع میں پارٹی کے کارکنان کی جانب سے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لئے افسران کو میمورنڈم پیش کرینگے۔







