امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: ہاتھ سے تیار کیے گئے کشمیری قالین پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی زینت بننے جارہے ہیں۔ یہ 12 قالین مکمل ہونے کے آخری مراحل میں ہیں۔ ان قالین کو وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے کھاگ قصبہ میں 50 دستکاروں پر مشتمل ایک گروپ ’طاہری کارپیٹس‘ کے آرڈر پر تیار کر رہا ہے۔
حکومت کے مطابق پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس نریندر مودی حکومت کے ’مہتواکانکشی سینٹرل وسٹاری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ‘ کے تحت بننے والی نئی عمارت میں منعقد ہوگا اور اسی عمارت میں یہ کشمیری قالین زینیت بننے جا رہے ہیں۔ طاہری کارپیٹس کے قمر علی خان کے مطابق کمپنی کو 12 قالین کا آرڈر گزشتہ برس اکتوبر میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے لیے آیا تھا انہوں نے کہا کہ ’’یہ آرڈر ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔‘‘
قمر علی خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی آرائش کے لیے قالین 11 فٹ لمبے اور 8 فٹ تک چوڑے ہوں گے اور انہیں ایک سرکلر فارمیشن میں رکھا جائے گا۔ ’’ہر قالین کی چوڑائی ایک جیسی نہیں ہوگی۔ یہ کم چوڑائی سے شروع ہوگی اور بڑھتے بڑھتے اس کی چوڑائی بڑی ہو جائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ قالین منفرد ہیں اور تینوں ڈیزائن روایتی کشمیری ’کانی شال‘ ڈیزائنوں سے لئے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 50 دستکار اس پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں اور 12 خاندان اس سے خام مال کی فراہمی، ڈیزائننگ، بنائی وغیرہ سے منسلک ہیں اور اس پروجیکٹ کا 90 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی کام میں مزید 20 دن لگیں گے۔










