• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جنوری ۳۰, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
مدارس کا سروے اگر ضروری ہے تو دوسرے تعلیمی اداروں کا سروے ضروری کیوں نہیں؟مولانا ارشدمدنی

مدارس کا سروے اگر ضروری ہے تو دوسرے تعلیمی اداروں کا سروے ضروری کیوں نہیں؟مولانا ارشدمدنی

by امت ڈیسک
13/09/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

نئی دہلی: جمعیۃعلماء ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین مولانا ارشدمدنی نے صاف لفظوں میں کہاکہ ہمارا اعتراض موجودہ حالات میں فرقہ پرست ذہنیت کے سلسلے میں ہے، مدارس کا سروے کرانے کے حکم پرنہیں ہے۔

انہوں نے یہ بات آج یہاں نیوز ایجنسیوں اورمیڈیاکے نمائندوں کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کہی انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھرمیں پچھلے کچھ برسوں کے دوران فرقہ پرست طاقتوں نے جس طرح نفرت کاماحول قائم کردیاہے اوراس سلسلہ میں حکومت کاجو کرداررہاہے اس کے پیش نظر مسلمان یہ یقین کرنے پر مجبورہوگیاہے کہ اس وقت ہرپالیسی اس کے وجودکو تباہ وبرباد کردینے کے لئے سامنے آرہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ دینی مدارس فرقہ پرستوں کی آنکھ کے کانٹے ہیں اس لئے ہمیں ان کی نیتوں کو سمجھناہوگا، مدارس کے نظام کو درست کرنے کی بات اپنی جگہ لیکن ہمیں ان کے لئے کمربستہ ہونا ہوگا کیونکہ کہ یہ مدارس قوم کی شہہ رگ ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ہمارے دینی اداروں کو دستورمیں دیئے گئے حق کی بنیادپر چلنے دیا جائے لیکن فرقہ پرست انہیں ختم کرنے کی ناپاک سازش میں مبتلاہیں، مگر ہم ان شاء اللہ انہیں ایساہرگز نہیں کرنے دیں گے، مدارس اسلامیہ کاوجود ملک کی مخالفت کے لئے نہیں اس کی تعمیروترقی کے لئے ہے، مدارس کا ڈیڑھ سوسالاکرداراس کا گواہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے کہاکہ دوسری طرف ریاست آسام میں مدرسوں کو یہ کہہ کرڈھایاجارہاہے کہ یہ دہشت گردی کے مراکز ہیں اور بدامنی پھیلانے والی القاعدہ کے دفاتربنے ہوئے ہیں، یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے اترپردیش میں جب تمام غیرمنظورشدہ مدارس کا سروے کرانے کا سرکلرجاری ہواہے تو مسلمانوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے خدشات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس طرح کا سرکلر جاری کرنے سے پہلے مسلمانوں کو اعتمادمیں لیاجاناچاہئے تھا، انہیں مطمئن کیاجانا چاہئے تھا، سرکارکی نیت پر شک کو کچھ اس لئے بھی تقویت مل رہی ہے کہ اترپردیش میں بڑی تعدادمیں غیر منظورشدہ دوسرے تعلیمی ادارے بھی چل رہے ہیں۔

چنانچہ اگر غیر منظورشدہ مدارس کا سروے ضروری ہے تو دوسرے غیر منظورشدہ تعلیمی اداروں کا سروے ضروری کیوں نہیں؟ سرکارکی نیت اگردرست ہے تویہ امتیازکیوں؟ مدارس کہاں ہیں، کس زمین پر قائم ہیں اورانہیں چلانے والے کون ہیں اگر سروے کا مقصدیہی ہے تو ہم نہیں سمجھتے کہ اس میں کوئی غلط بات ہے، مسلمان تعاون کرنے کو تیارہیں، یوں بھی مدارس کے دروازے تو ہمیشہ سے سب کے لئے کھلے ہیں، ان کے اندرچھپانے جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ سب کچھ آئینہ کی طرح صاف ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آسام کے وزیراعلیٰ بے بنیادالزام تراشی کرکے مدارس کے انہدام کو درست ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں، سوال یہ ہے کہ جو الزام وہ لگارہے ہیں، اس کا ان کے پاس ثبوت کیا ہے، میرادعویٰ ہے کہ وہ قیامت تک کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکتے، زبان سے آدمی توکچھ بھی کہہ دے۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ آسام کے وزیراعلیٰ کانگریس کے دورمیں بھی وزیررہے ہیں، بی جے پی اقتدارمیں آئی تواس وقت بھی وزیرہوئے، مگراب جبکہ وہ خودوزیراعلیٰ بن چکے ہیں آسام کے مدارس انہیں القاعدہ کے دفترنظرآنے لگے، سوال یہ ہے کہ جب وہ وزیرتھے تب انہیں کہیں القاعدہ کیوں نظرنہیں آیا؟

ایک اورسوال کے جواب میں مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ مدرسوں میں خالص مذہبی تعلیم دی جاتی ہے، اوراس کا اختیارہمیں ملک کے آئین نے دیاہے، آئین میں ہمیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اورانہیں چلانے کا مکمل حق بھی دیا ہے۔ مدارس میں قرآن وحدیث کی تعلیم میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

اگرایساہوتاتوہمارے مدارس کے طلبابھی ٹرینوں کو آگ لگاتے،دفتروں اوربسوں کو جلاتے اورسڑکوں پر نکل کر ہنگامہ آرائی کرتے، بلکہ وہ تو کالجوں اوریونی ورسیٹیوں کے طلبا جنہوں نے پچھلے دنوں کتنے ہی ٹرینوں میں آگ لگائی اورسڑکوں پر اترکر پرتشددہنگامہ کیا، توکیا یہ مان لیاجائے کہ ملک کے کالجوں اوریونی ورسیٹیوں میں اب دہشت گردی کی تعلیم دی جارہی ہے،؟

انہوں نے مزیدکہا کہ ابھی حال ہی میں یوپی کے وزیراعلیٰ سہارنپورکے دورہ پر گئے تھے، توبعض فرقہ پرست حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ یہاں شیخ الہند کے نام پر جو میڈیکل کالج ہے اس کا نام بدل دیاجائے، اس پر وزیراعلیٰ نے یہ جواب دیا کہ جن کے نام پر یہ کالج ہے وہ بہت بڑے مجاہدآزادی تھے، میں اس وقت بیمارتھااوراسپتال میں پڑاہواتھا، میراجی چاہتاتھا کہ وزیراعلیٰ کو ایک ستائشی خط لکھ کر انہیں اس کے لئے مبارک باددوں، کیونکہ انہوں نے اس تاریخی سچائی کا اعتراف کیا ہے، ایسے میں یہ بڑاسوال پیداہوتاہے کہ شیخ الہند اگر ایک عظیم مجاہدآزادی تھے توان کے شاگرد اورعلمی اولادوں کی اولادیں دیش ورودھی کیوں کر ہوسکتی ہے اوران کے ذریعہ قائم کئے گئے یہ مدارس دہشت گردی کے مرکزکیسے ہوسکتے ہیں؟

انہوں نے کہاکہ تاریخی سچ یہ ہے کہ یہ ہمارے علماء اوراکابرہی تھے جنہوں نے اس وقت ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزادکرانے کا خواب دیکھاجب پوری قوم سورہی تھی، اس کے لئے ہمارے علماء اوراکابرین نے قیدوبندکی صعوبیتیں ہی براداشت نہیں کیں بلکہ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا آج ہمارے انہی اکابرین کے ذریعہ لگائے گئے ان درختوں کو جڑسے کاٹ دینے کی سازشیں آسام میں ہورہی ہیں۔

ان کی اولادوں کو غداراورملک دشمن قراردیاجارہاہے، انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو کالجوں اوریونی ورسیٹیوں سے پڑھ کر نکلے ملک کی لاکھوں ہزارکروڑ کی دولت سمیٹ کر ملک سے فرارہوچکے ہیں، ملک کے عام شہری غربت وافلاس اورمہنگائی میں دب کر موت سے بدترزندگی بسرکررہے ہیں، اوریہ لوگ ملک کا اثاثہ لوٹ کر غیر ممالک میں عیش کررہے ہیں، کیا یہ دیش دروہی نہیں ہیں؟ اورکیا یہ پتہ لگانے کی کوشش نہیں ہوگی کہ ان میں کتنے مسلمان ہیں،؟ سچ تویہ ہے کہ ان کی گردنوں تک قانون کے ہاتھ اب تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

حیدر پورہ انکاونٹر معاملے میں سپریم کورٹ میں دائر عرضی مسترد

Next Post

حد بندی میں عدالتی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں: مرکزی وزارت داخلہ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

طلباء میں خود کشی کا تشویشناک رجحان،جموں کشمیر میں کمیٹیاں تشکیل

طلباء میں خود کشی کا تشویشناک رجحان،جموں کشمیر میں کمیٹیاں تشکیل

30/01/2026
بیروہ میں مسافر بس دکان سے ٹکرا گئی

بیروہ میں مسافر بس دکان سے ٹکرا گئی

30/01/2026
کیرن سیکٹر میں پاکستانی ڈرونز کی پرواز، بھارتی فوج کی وارننگ فائرنگ

کیرن سیکٹر میں پاکستانی ڈرونز کی پرواز، بھارتی فوج کی وارننگ فائرنگ

30/01/2026
عمر عبداللہ کا جموں کی علیحدگی کے مطالبے پر طنز، سنیل شرما کو ’میئر‘ کہہ کر نشانہ

جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے مطالبے پر طلبہ احتجاج، وزیراعلیٰ کا ردعمل — کہا: جب جموں کو آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم ملے تو کشمیر میں کوئی احتجاج نہیں ہوا

29/01/2026
اے سی بی کا سوپور میں اے آر ٹی او دفتر پر چھاپہ

جموں میں اے سی بی کی کارروائی، سابق ایم ڈی اور موجودہ ڈپٹی ایم ڈی سیکوپ کے خلاف غیر قانونی تقرری پر مقدمہ درج

29/01/2026
عمر عبداللہ کا جموں کی علیحدگی کے مطالبے پر طنز، سنیل شرما کو ’میئر‘ کہہ کر نشانہ

اتراکھنڈ میں کشمیری شال فروش پر حملہ: وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ کا سخت کارروائی کا مطالبہ

29/01/2026
Next Post
حد بندی میں عدالتی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں: مرکزی وزارت داخلہ

حد بندی میں عدالتی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں: مرکزی وزارت داخلہ

شوپیان جھڑپ میں مارا گیا جنگجو 9 روزقبل عسکری گروپ میں شامل ہوا تھا

شوپیان جھڑپ میں مارا گیا جنگجو 9 روزقبل عسکری گروپ میں شامل ہوا تھا

ایس آئی بدعنوانی معاملہ : سی بی آئی کے33 مقامات پر چھاپے

ایس آئی بدعنوانی معاملہ : سی بی آئی کے33 مقامات پر چھاپے

گیان واپی مسجدکیس: مسلم فریق کی درخواست کے اخراج سے مذہبی مقامات قانون بے معنیٰ:اویسی

گیان واپی مسجدکیس: مسلم فریق کی درخواست کے اخراج سے مذہبی مقامات قانون بے معنیٰ:اویسی

سکندر رضا نے پلیئر آف دی منتھ ایوارڈ جیت لیا

سکندر رضا نے پلیئر آف دی منتھ ایوارڈ جیت لیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »