امت نیوز ڈیسک //
سرینگر / سرحدی علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ سرحدو ں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی فورسز کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت سرحدی علاقوں کی سلامتی اور ترقی کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ کشن گنج میں بین الاقوامی سرحد پر سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے ساتھ آبادیاتی تبدیلیاں بہت تشویشناک ہیں اور سیکورٹی فورسز کو چوکنا رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت سرحدی علاقوں کی سلامتی اور ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ دورے کے دوران امیت شاہ نے سرحدی محافظ دستوں کی جائزہ میٹنگ میں بھارت بنگلہ دیش۔ ہندوستان-نیپال اور ہندوستان-بھوٹان کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت اور سلی گوڑی کوریڈور کی سیکورٹی سے متعلق مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس میٹنگ میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے کے علاوہ بی ایس ایف، ایس ایس بی، آئی ٹی بی پی کے سربراہان اور تینوں سرحدی محافظ دستوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اس موقعہ پر امیت شاہ نے فورسز کو فرضی آدھار، ووٹر کارڈ جاری کرنے سمگلنگ، غیر قانونی دراندازی کے علاوہ سرحد پر دیگر مسائل کی جانچ کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے تمام فورسز کو اضافی چوکس رہنے اور ان تمام مسائل سے زیادہ سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی۔اس حوالے سے امیت شاہ نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے بی ایس ایف، ایس ایس بی اور آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل اور سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ میں سرحدی سلامتی سے متعلق مختلف موضوعات کا جائزہ لیا اور سرحدی سلامتی سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا“۔انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ وہاں کی سکیورٹی بھی ہماری ترجیح ہے اور اس کے لیے سکیورٹی فورسز کو جدید ٹیکنالوجی اور ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔








