امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا ہے کہ نئی دلی میں براجمان حکمران جماعت جموں و کشمیر میں اس لئے اسمبلی انتخابات کرانے سے کترارہی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ان کی حکومت نہیں بنی تو یہاں کی اسمبلی اس صدارتی حکمنامے کو غیر آئینی قرار دے گی جس کے ذریعے 5اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن چھین لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت نے جموں و کشمیر میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے اسمبلی نشستوں کی من پسند حد بندی کی ،اسمبلی سیٹوں کی ہیرا پھیری کی اور موقعہ پرست لوگوں کو زر کثیر دے کر خرید لیا جو یہاں ان کا پرو پیگنڈا چلارہے ہیں لیکن اس کے باوجو د بھی انہیں یہاں جیت ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے خطہ چناب کے ضلع کشتواڑ کا 4 روزہ دورہ سمیٹتے ہوئے وڑوں میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے اپنے خطاب کے دوران لوگوں خصوصاً نو جوانوں سے اپیل کی کہ وہ ووٹر فہرستوں میں اپنانام درج کرائیں اور تمام لوازمات کو پورا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ پر پٹی کے ذریعے ہی ہم اپنے حقوق کی بحالی کیلئے جد و جہد کر سکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہم ووٹر فہرستوں میں اپنا نام درج کرائیں اور جب الیکشن کا بنگل بجے تو اس روز کھڑے ہو جائیں اور اگر سامنے تو ہیں بھی ہوں تو پیچھے نہ ہٹیں کیوں زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہوتی ہے اور جب تک اس کی مرضی نہیں ہو گی اس وقت تک آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لوگوں کو موقعہ پرست عناصر سے ہوشیار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سارے لوگ آپ کے پاس مختلف لبادے پہن کر آئیں گے ، جو آپ کو سبز باغ دکھائیں گے اور آپ کا ایمان پیسوں سے خریدنے کی کوشش کریں گے لیکن آپ کو اس دوران عزم اور استقلال کا مظاہر ہ کرنا ہے اور دشمنوں کی تمام چالوں سے ہوشیار رہنا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ 4 روزہ دورے کے دوران در جنوں علاقوں میں گئے اور وہاں لوگوں کیساتھ بات چیت کی اور انکے مسائل اور مشکلات سے آگہی حاصل کی ۔(یو این آئی)











