امت نیوز ڈیسک //
جموں وکشمیر انتظامیہ وادی کشمیر میں سیاحتی شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے مختلف النوع اقدام کر رہی ہے۔جہاں ایک طرف نئے سیاحتی مقامات کو تلاش کیا جا رہا ہے وہیں پُرانے اور مشہور تفریح گاہوں کو سیاحوں کے لئے زیادہ سے زیادہ پُر کشش بنانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
حکومت سرینگر میں واقع شہرہ آفاق جھیل ڈل میں برطانیہ کے مشہور ابزرویشن وہیل ’لندن آئی‘ کے طرز پر ’سری نگر آئی‘ نصب کرنے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔بتادیں کہ ’لندن آئی‘ لندن میں دریائے ٹیمز کے مغربی بینک پر ایک بڑا ہنڈولا ہے یہ یورپ کا سب سے بڑا ہنڈولا ہے یہ برطانیہ میں سیاحوں کی توجہ کا سب سے بڑا مرکزہے جس کی سالانہ تین ملین سیاح سیر کرتے ہیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت جھیل ڈل میں سیاحوں کے لئے ایک دیو قامت ’فیرس وہیل‘ کے ساتھ ’لندن آئی‘ کے طرز پر ’سرینگر آئی‘ نصب کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
امسال جموں و کشمیر میں 1.62 کروڑ سیاح واردانہوں نے کہا کہ جھیل ڈل میں اس کی تعمیر کے لیے جگہ شارٹ لسٹ کی گئی ہے اور اگر یہ منصوبہ پورا ہوا تو یہ سیاحوں کی کشش کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا اور اس سے وادی میں ٹورزم کو مزید فروغ ملے گا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کچھ وقت پہلے بنایا گیا تھا لیکن اس کو حتمی شکل دینے سے پہلے کئی چیزوں جیسے ماحولیاتی اثرات کی تشخیص، مالیاتی ماڈلنگ وغیرہ کو ملحوظ نظر رکھنا ہے۔واضح رہے کہ امسالجموں و کشمیر میں 1.62 کروڑ سیاح وارد ہوئے۔سرکاری اعداد شمار کے مطابق اس سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں ریکارڈ توڑ میں 20.5 لاکھ سیاحوں نے کشمیر کا دورہ کیا، جن میں 3.65 لاکھ امرناتھ یاتری بھی شامل ہیں۔
20 لاکھ سیاحوں نے وادی کشمیر کے مشہور صحت افزا مقامات گلمرگ، پہلگام ، سونہ مرگ ،مغل باغات کی سیر کی جس سے نہ صرف یہاں روزگار کے مواقعے ملے بلکہ کووڈ سے بے حال سیاحت سے جڑے افراد میں خوشی کی لہر ڈور پڑی۔ اس سال جون میں کشمیر کے بیشتر ہوٹولوں اور گیسٹ ہاؤسز میں پہلے سے100 فیصد بوکینگ ہوئی تھی۔
سال 2021 میں بھی اگرچہ لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں نے کشمیر کا رخ کیا، لیکن امسال گزشتہ برسوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹنے کی توقع کی جارہی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار سرینگر کے ہوائی اڈے سے روزانہ تقریبا 100 پروازوں کی آمد و رفت ہو رہی ہے اور ہر روز کم از کم 5 ہزار سیاح یہاں پہنچ رہے ہیں جب کہ اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں بیشتر ہوٹلوں میں ستمبر اور اکتوبر میں 95 فیصد پیشگی بکنگ ہوچکی ہے








