امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کمشیر کے بہت سارے سیاسی قیدی اس وقت جیلوں میں سڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے مجروموں کو جو مختلف جرائم میں ملوث ہے کو جیلوں سے رہا کر انہیں باقائدہ طور سے حوصلہ افزائی کی ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ علیحدگی پسند رہنما الطاف احمد شاہ کو منگل کے روز دہلی کے ایمس ہسپتال میں موت واقع ہوئی اور اب اس کے اہل خانہ کو لاش کے لیے اب انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا صرف الطاف شاہ کی بات نہیں ہے یہاں 80 سالہ اسٹین سوامی بھی جیل میں ایڑھیا رگڑ رگڑ کے مر گیا، کیونکہ انہیں ضمانت نہیں ملی تھی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس وقت بہت سارے لوگ جن میں سماجی کارکنان ، سیاسی قیدی،علحیدگی پسند رہنما جیلوں میں قید ہے اس کے برعکس اس وقت کی حکومت نے مختلف جرموں میں ملوث مجروموں کو جیلوں سے رہا کیا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیدیوں کو ضمانت پر رہا نہ کے بنا کسی جرم کے جلیوں میں بند کیا جاتا ہے۔ الطاف شاہ کے اہل خانہ کو آخری وقت میں بھی ضمانت پر رہا نہیں کیا گیا تاکہ وہ آخری وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزار سکے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو لوگ یہ دعوی کرتے ہے کہ کشمیر میں حالات ٹھیک ہے اور اگر حالات ٹھیک ہوتے تو کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں نوجوان جیلون میں بند ہے۔ دینی اسکالز کے گھروں پر چھاپہ مار دیے جاتے ہے اور ان کو بند کیا جاتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ گذشتہ روز جموں و کشمیر انتظامیہ نے اسٹورز میں کھلی طور شراب بھیجنے کی اجازت دی ہے، اس کے برعکس گجرات، بہار میں شراب پر پابندی ہے مگر یہاں مسلمانوں کے جزبات کو مجروں کرنے کے لیے اس طرح کے آڈر نکالے جاتے ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جو بھی پالیسیاں یہاں لاتی ہے وہ تمام ناکام ثابت ہوئی اور جتنا بھی دباؤ اور ظالم یہ لوگ یہاں کریں گے اس کے نتائج صحیح نہیں بلکہ غلط نکلے گے۔
بتادیں کہ منگل کی صبح ٹیرر فنڈنگ معاملے کے الزام میں قید مرحوم سید علی گیلانی کے داماد الطاف احمد کا دہلی کے ایمس ہسپتال میں انتقال ہو گیا۔ شاہ کو دہلی ہائی کورٹ نے کینسر کی تشخیص کے بعد مناسب علاج کے لیے دہلی کے ایمس اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل محمد الطاف شاہ کی بیٹی نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپنے بیمار والد کے لیے فوری طبی امداد کی درخواست کی تھی۔ الطاف شاہ فی الحال تہاڑ جیل میں بند تھے۔









