امت نیوز ڈیسک //
شوپیاں:جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے ایک کشمیری پنڈت پر گولیاں برسا کر اسے شدید زخمی کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ شوپیاں ضلع کے چودھری گنڈ علاقے میں پیش آیا۔ کشمیری پنڈت کو فوری طور زخمی حالت میں نزدیکی اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر فوت ہو گیا۔
ہلاک ہونے والے کشمیری پنڈت کی شناخت پورن کرشن بھٹ ولد تارک ناتھ بھٹ کے طور پر ہوئی ہے۔ حفاظتی اہلکاروں نے حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے۔
ذرایع کے مطابق چودھری گنڈ ، شوپیان قصبے سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پورن کرشن بٹ اپنے مکان کے صحن میں کھڑا تھا اور اسی دوران نامعلوم افراد انکے احاطے میں داخل ہوئے اور ان پر نزدیک سے کئی گولیاں چلائیں۔ پورن کرشن کو شدید زخمی حالت میں فوری طور شوپیان کے سب ضلع اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔
کسی بھی عسکری تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ پنڈےؤتوں اور غیر مقامی مزدوروں پر حالیہ حملوں میں عسکریت پسند ملوث ہیں جو کشمیر میں افراتفری کے ماحول کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔گزشتہ ماہ شوپیان ضلع کے ہی ایک گاؤں میں ایسے ہی ایک حملے میں ایک پنڈت فرقے سے وابستہ شخص کو ہلاک کیا گیا تھا جبکہ مئی میں وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں محکمہ مال کے ایک ملازم راہل بھٹ کو انکے دفتر میں ہلاک کیا گیا جس پر پنڈتوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاج کے نتیجے میں حکام نے کئی ایسے پنڈت ملازمین کو کشمیر سے جمون منتقل کیا جنکی تقرری وزیر اعظم کے خصوصی پیکج کے تحت پنڈتوں کی بازآبادکاری کے سلسلے مین کی گئی تھی۔ دیگر ملازمین کو ایسی جگہوں پر تبدیل کیا گیا جہاں مقابلتاً انکے لئے محفوظ ماحول تھا۔ پنڈت ملازمین مطالبہ کررہے تھے کہ انہیں جموں ٹرانسفر کیا جائے۔









