امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:ایک مقامی عدالت نے سرینگر کے سابق ڈپٹی میئر شیخ عمران کو عارضی طور پر موجودہ ڈپٹی میئر پرویز قادری کے خلاف پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں کوئی ہتک آمیز مواد شائع کرنے پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ درخواست گزار پرویز قادری کی طرف سے ایڈوکیٹ شہزادہ سلیم اور ایڈوکیٹ فیروز احمد پرے کے دلائل سننے کے بعد جاری کیا۔
عرضی گزار پرویز قادری نے عدالت میں اپنے وکلا کے ذریعے عارضی حکم امتناعی کی درخواست جمع کرائی تھی۔ عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرینگر کے موجودہ ڈپٹی میئر پرویز قادری عوام کے قابل احترام منتخب نمائندے ہیں اور اس وقت ڈپٹی میئر سرینگر میونسپل کارپوریشن کے عہدے پر فائز ہیں جبکہ سابق ڈپٹی میئر شیخ عمران ان کی شبیہ کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ دائر کرنے کی وجہ 15 اکتوبر 2022 کو پیدا ہوئی جب مدعا علیہ( شیخ عمران) نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں مدعا علیہ نے پرویز قادری کی شبیہ کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
درخواست میں پرویز نے شیخ عمران کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مدعی کے خلاف توہین آمیز اور ہتک آمیز تبصرے کرنے یا شائع کرنے پر روک لگانے کی اپیل کی ساتھ ہی شیخ عمران سے 5 کروڑ روپے کی رقم بطور ہرجانہ ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔
عدالت نے کیس کو سنے کے بعد مدعا علیہ سے اعتراضات دائر کرنے کہ ہدایت دی اور اس دوران شیخ عمران پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے درخواست گزار کے خلاف کوئی بھی ہتک آمیز تبصرہ براہ راست یا بالواسطہ شائع کرنے یا پوسٹ کرنے سے عارضی طور پر روک لگا دی۔ اس کیس کی اگلی سماعت اگلے ماہ 2 نومبر کو ہو گی۔











