سرینگر///پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے سرکار کے اُس فیصلے کی سخت نکتہ چینی کی گئی جس میں ایل جی انتظامیہ نے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سید کے نام پر راشن فراہم کیا جاتا تھا ۔ اس سکیم کے تحت چار کنبوں پر مشتمل افراد کو فی فرد پانچ کلو اضافی چاول اور پانچ افراد سے زیادہ کنبوں والے راشن ہولڈروں کو فی راشن کارڈ 35کلو چاول کم قیمت پرتقسیم کیا جاتا تھا تاہم سرکار نے اس سکیم کو ختم کرنے کا من بنالیا ہے جس پر پی ڈی پی نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے اسے عوام مخالف اقدام قراردیا ہے ۔ پی ڈی پی نے جموں و کشمیر میں لوگوں کو اضافی راشن بند کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔پارٹی کے ایڈیشنل ترجمان روف بٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط اور من مانی پر مبنی ہے کیونکہ اس سے جموں و کشمیر کے لوگوں کو بنیادی خوراک سے محروم کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو اضافی 35 کلو چاول اور آٹا روک دیا ہے جسے پی ڈی پی حکومت نے 2016 میں مفتی محمد سعید فوڈ انٹائٹلمنٹ سکیم (MMSFES) کے طور پر نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ (NFSA) کے تحت پسماندہ اور معاشرے کے دیگر پچھڑے طبقات کیلئے شروع کیاتھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت وہ تمام افراد جو عوامی تقسیم کاری کے نظام کے تحت آتے ہیں انہیں فی کنبہ 35 کلو راشن کا اضافی کوٹہ 13 روپے فی کلو آٹا اور 15 روپے فی کلو چاول کے حساب سے دیا جاتا تھااور ریاستی حکومت اس کا مالی بوجھ برداشت کرتی تھی۔بٹ نے کہا کہ اس اسکیم کو اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ تمام علاقوں کے لیے راشن کا یکساں پیمانہ ہو جبکہ صارفین کی خوراک کی ترجیحات کا خیال رکھا گیا تھا۔رو ¿ف بٹ نے کہا کہ عوام دشمن فیصلے وہی انتظامیہ لے سکتی ہیں جنہیں عوام کی فلاح و بہبود کی فکر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ راشن بند کرنےسے جموں و کشمیر کے لوگوں پر منفی اثرات پڑے گے کیونکہ وہ کووڈ کی صورتحال کے بعد مالی پریشانی سے دوچار ہیں۔روف بٹ نے کہا کہ انتظامیہ کو لوگوں کی مدد کرنی چاہیے تھی بجائے اس کے کہ وہ عوام دشمن فیصلے لے رہی ہے جس سے ان کی زندگی اجیرن بن رہی ہے۔








