امت نیوز ڈیسک //
سرینگر // جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی رہنما شاہنواز حسین نے کہا کہ محبوبہ مفتی ان کشمیری پنڈتوں کیلئے ”مگرمچھ کے آنسو“نہ بہائیں جو ٹارگٹ کلنگ کے خوف سے وادی چھوڑ رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حالیہ ٹارگٹ کلنگ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مرکز کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے کشمیری پنڈت ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔جس پر بی جے پی رہنما شاہنواز حسین نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا یا ۔ حسین نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو کشمیری پنڈتوں کے بارے میں بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ محبوبہ مفتی اس پارٹی کی رہنما ہیں جس نے کشمیری پنڈتوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس نے کشمیری پنڈتوں کیلئے کچھ نہیں کیا سوائے انہیں جموں و کشمیر چھوڑنے پر مجبور کرنے کے۔ کانگریس، پی ڈی پی، این سی سبھی اس کا حصہ تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ محبوبہ مفتی کو مگرمچھ کے آنسو نہیں بہانے چاہئیں۔ ہر کوئی اس حقیقت سے واقف ہے کہ جب وہ وزیر اعلیٰ تھیں تو وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی تھیں۔ وہ ان کے جنازے میں جایا کرتی تھی۔ برہان وانی کے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے۔ محبوبہ مفتی اور ان کی پارٹی پی ڈی ملی ٹنٹوں کی حمایت کرتی رہیں۔ یہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس جیسی سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے کشمیر کا ماحول خراب کرنے کا کام کیا۔شنہواز حسین نے مزید کہا کہ آج ہماری حکومت کشمیری پنڈتوں کے لیے کام کر رہی ہے اور ہم ملی ٹنٹوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ پاکستان کے حمایت یافتہ ملی ٹنٹوں کا استعمال کرکے سیاست کرتے ہیں اور وادی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ لیکن یہ ہماری حکومت کا عزم ہے کہ ہم کشمیری پنڈتوں کو ہر شرط پر تحفظ فراہم کریں گے۔اس وقت مفتی خاندان کہاں تھا، فاروق عبداللہ کہاں تھا، کانگریس پارٹی کے راجیو گاندھی کہاں تھے جو اس وقت وزیراعظم تھے اور وزیراعظم ہونے کے باوجود وطن چھوڑنے پر کیسے مجبور ہوئے؟ آج وہ کشمیری پنڈتوں کے لیے آنسو بہا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے کشمیری پنڈتوں کے تحفظ کا عہد کیا ہے اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ ان میں وادی میں اپنے گھروں کو لوٹنے کا اعتماد پیدا کیا جا سکے۔










