امت نیوز ڈیسک //
سرینگر / فوج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے اور ہم حکومت کے حکم پر کسی بھی کارروائی کیلئے تیار ہیں کا دعویٰ کرتے ہوئے سرینگر میں مقیم چنار کارپس کے فوجی کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اے ڈی ایس اوجلا نے لائن آف کنٹرول پر صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بہت سارے ”پیرامیٹرس معمول“کے آثار دکھا رہے ہیں اور چیلنج جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔ سرینگر میں 15کور فوجی ہیڈ کواٹر پر میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے 15کور کے فوجی کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اے ڈی ایس اوجلا نے کہا کہ بہت سارے پیرامیٹرس معمول کی علامات ظاہر کر رہے ہیں اور ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہم اس جنگ بندی اور معمول کے اس مرحلے کو برقرار رکھنے کے قابل ہوں جو ہم روزانہ کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں۔لیفٹنٹ جنرل اے ڈی ایس اوجلا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے گلگت بلتستان سے متعلق حالیہ بیان پر کہا کہ ”بھارتی فوج پوری طرح تیار ہے اور ہم حکومت کے حکم پر کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہیں“۔وزیر دفاع کے بیان اور کشمیر اور سرحد کی موجودہ صورتحال پر، چنار پولیس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) اے ڈی ایس اوجلا نے حال ہی میں سری نگر میں 15 کور ہیڈ کوارٹر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ اس موقعہ پر جنرل اوجلا نے کہا”جب بھی مرکزی حکومت ایسا فیصلہ کرے گی، ہمارے پاس احکامات آئیں گے اور ایسی صورت حال میں، ہم پوری طرح تیار ہیں۔ اپنی روایتی طاقت کے علاوہ، ہم خود کو جدید طور پر بھی مضبوط کر رہے ہیں، تاکہ ہمیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو“۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 75 سالوں میں ہندوستانی فوج کی صلاحیتوں اور طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری تیاری بہت اچھی سطح پر ہے اور جب بھی اسے ظاہر کرنے کی ضرورت ہوگی، آپ کو بہت مختلف اثر نظر آئے گا۔ موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے جنرل اوجلا نے کہا کہ اس وقت صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے لیکن جب بھی موقع ملتا ہے دراندازی کی کوششیں ہوتی ہیں تاہم بھارتی فوج ہماری سرحد کی حفاظت کیلئے پوری قوت کے ساتھ تیار ہے۔ جنگ بندی کے اعلان اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں جنرل اوجلا نے کہا”وادی میں امن کی بحالی کے پیش نظر یہ بہت اچھا سال رہا ہے، جس میں 32 سال میں سب سے کم دراندازی ہوئی ہے۔ اس پورے سال میں اکتوبر کے مہینے تک صرف آٹھ ملی ٹنٹوں نے دراندازی کی کوشش کی جن میں سے تین کو مار گرایا گیا۔










