امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج کہا کہ دہشت گردی کی مالی اعانت، دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے اور دہشت گردی کو کسی مذہب یا گروہ سے نہیں جوڑا جا سکتا اور نہ ہی اسے جوڑا جانا چاہئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گرد تشدد کرنے، نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے اور مالی وسائل اکٹھا کرنے کے لئے مسلسل نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں اور دہشت گرد، بنیاد پرست مواد پھیلانے اور اپنی شناخت چھپانے کے لئے ڈارک ویب کا استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لئے سب سے سنگین خطرہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی کی مالی معاونت، خود دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ دہشت گردی کے ذرائع اور طریقے اس طرح کی فنڈنگ سے ہی پروان چڑھتے ہیں۔
اس کے علاوہ، دہشت گردی کی مالی اعانت دنیا کے ممالک کی معیشت کو کمزور کرتی ہے۔ امیت شاہ دہلی میں وزارت داخلہ کی طرف سے منعقدہ تیسری ’’دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق وزارتی کانفرنس برائے انسداد دہشت گردی‘‘ سے خطاب کررہے تھے۔
تاریخ کے جھروکوں سے، ماضی میں 18 نومبر کو کیا کچھ ہوا تھا؟
راجیوگاندھی قتل کیس کے مجرموں کی رہائی کے خلاف مرکز سپریم کورٹ سے رجوع
اداکارہ ریاسین‘ بھارت جوڑو یاترا میں راہول گاندھی کے ساتھ (تصاویر)
انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خطرے کو کسی مذہب، قومیت یا گروہ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسا ہونا چاہئے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے، ہم نے سیکورٹی کے ڈھانچے کے ساتھ ساتھ قانونی اور مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم پیشرفت کی ہے۔
پاکستان پر درپردہ حملہ کرتے ہوئے، امیت شاہ نے کہا کہ ہمارے آس پاس ایسے ممالک ہیں جو دہشت گردی سے لڑنے کے ہمارے اجتماعی عزم کو کمزور کرنے یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ ہم ان سے کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ان کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔










