امت نیوز ڈیسک //
سرینگر//چھوٹے بچوں کو موبائیل اور کمپوٹر جیسے الکٹرانک آلات سے کھیلنے کی وجہ سے بچوں کے رویہ میں منفی تبدیلی ، چڑچڑا پن ،شرارتی مزاج اور جارحانہ پن بڑھ جاتا ہے جو ان کی جسمانی اور ذہنی نشونمائ کےلئے بھی سخت نقصان دہ قراردیتے ہوئے ماہرین اطفال نے بتایا ہے کہ چھوٹے بچوں کو ان سب چیزوں سے دور رکھ کر انہیں آوٹ ڈور کھیلنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ ایک سال سے پانچ برس تک کے بچوں کو موبائل اور کمپوٹر سے کھیلنے ، ویڈیو دکھانے ، موبائل پر گیمز کھیلنے اور موبائل کان پر رکھ کر بات کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے کیوں کہ ایسے بچے کی جسمانی اور ذہنی جسامت پختہ نہیں ہوتی ہے اور موبائل فونوں سے نکلنے والے ریزے ان کے دماغ کےلئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو موبائل اور کمپوٹر کھیلنے کےلئے دینے سے بچوں میں چڑاچڑا پن، شرارتی مزاج ، اور ان کے رویہ میں منفی تبدیلیاں رونمائ ہوتی ہے۔ اور آگے چل کر وہ سخت شرارتی بن جاتے ہیں۔ ماہرین اطفال کے مطابق آج کل کے تیز تر دور میں جہاں بچوں کے والدین اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور روزگار کے سلسلے میں دن بھر گھروں سے باہر رہ اپنے بچوں کا دھیان بٹانے کےلئے ان کو موبائل اور کمپوٹر کھیلنے کےلئے دیتے ہیں جس سے ان کے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشونمائ پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ آج کل کے مقابلہ جاتی دور میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ ان کے بچے سکولوں میں اول نمبر پر آئے اور اس کےلئے بچوں کا بچن ان سے چھینا جاتا ہے۔ چھوٹے بچے صبح سکول پہنچتے ہیں سکولوں سے واپس آنے کے بعد ان کو ٹیوشن جانا پڑتا ہے اور وہاں سے واپس آکر دینی تعلیم کےلئے درسگاہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچے کا دن انہی کاموں میں گزرجاتا ہے اورجب واپس آتے ہیں تو والدین ان کو اپنے ساتھ رکھنے کے بجائے ان کو موبائل ہاتھ میں دیکر خود آزادی محسوس کرتے ہیں تاہم یہ رجحان آج کل کے بچوں کےلئے کافی نقصان دہ ہے۔ ماہرین اطفال کے مطابق بچوں کے جنسی اور ذہنی نشونمائ کی بہتری کےلئے ان کو کھیلنے کےلئے وقت کی ضرورت ہے۔ اس جدید دور میں جہاں تعلیم کی طرف توجہ لازمی ہے وہیں کھیل کود کی سرگرمیاں بھی انتہائی ناگزیر ہیں۔ خاص کر اپنے گھروں کے صحن اور دیگر کھلی جگہوں پر بچوں کو کھیلنے کا موقع فراہم کرنا انتہائی لازمی ہے۔ سی این آئی کے نمایندے امان ملک کے مطابق آج کل یہ رجحان بڑھ گیا ہے کہ پانچ برس تک کے بچوں کو اپنے ہی کمروں اور گھروں میں قید کرکے رکھا جاتا ہے اور ان کو باہر صحن یا کمروں سے باہر کھلی جگہوں پر جانی سے منع کیا جاتا ہے جو سراسر غلط اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ جس قدر بچے کھیلیں گے ان کا خون نسوں میں زیادہ تیزی سے دوڑے گا اس کے ساتھ ساتھ جسم کا ہر حصہ حرکت میں رہ کر ورزش میں رہے گا جو بچوں کے صحت کےلئے انتہائی ضرور ی ہے۔ ماہرین اطفال نے کہا کہ بچوں کوکھیل کود سے روکنا نہیں چاہئے اور ان کو موبائل اور کمپوٹر سے جتنی دور رکھا جائے ان کےلئے اتنا ہی بہتر ہے۔










