امت نیوز ڈیسک //
پہلے گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور اور اب شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائینسز اینڈ ٹیکنالوجی ووڈورہ سوپور سے ایسی ہی شرمناک خبر سامنے آیی ہے جہاں ایک طالبہ نے پروفیسر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا یے۔ جس کے بعد آج جمعہ کی شام کو یونیورسٹی طلبہ نے جمعہ کی شام کو زبردست احتجاج کرتے ہوئے کاڈینڈر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق طالبہ نے ایک پروگرام کاڈینڈر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا۔
سکاسٹ کی ڈین رہانہ حبیب کانٹھ نے بتایا کہ اس معاملہ میں انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک، مذکورہ کوآرڈینیٹر کو معطل دیا گیا ہے اور انکوائری مکمل ہونے تک اس کی تنخواہ روک دی گئی ہے۔”
ادھر ڈپٹی کمشنر بارہمولہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو تفتیش کے مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے اور پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
واضح رہے اس سے ایک ہفتے قبل ہی سوپور کالج میں بھی اسی طرح کے واقع میں ایک طالبہ نے اپنے ہی پروفیسر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد کالج کی جانب سے تحقیقات کےلیے تشکیل دی گئی کمیٹی نے کچھ روز قبل اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔جس پر اب فیصلہ آنا باقی ہے۔










